اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس کا 5 ہزار روپے کا نوٹ بند کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
غیر ملکی سرمایہ کاروں کے نمائندہ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس نے 5 ہزار روپے کا کرنسی نوٹ بند کرنے کا مطالبہ کردیا۔
رپورٹ کے مطابق اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس نے اپنی بجٹ تجاویز میں 5 ہزار روپے کا نوٹ بند کرنے کا کہا ہے جس سے نقد لین دین کی جگہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ ملے گا، پانچ ہزار روپے کا نوٹ بند ہونے سے بندعنوانی میں کمی ہوگی۔
تاجر باڈی نے کہا کہ مصنوعات کی فروخت پر سیلز ٹیکس کی شرح سالانہ ایک فیصد کمی سے 15 فیصد پر لایا جائے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 14 فیصد تک لائی جائے، کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 28 فیصد سے بتدریج کم کرکے 25 فیصد پر لائی جائے، 6 فیصد سپر ٹیکس کو آئندہ تین سال میں ختم کیا جائے۔
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس نے کہا کہ سپر ٹیکس آئندہ سال 6 فیصد اس کے بعد تین فیصد اور صفر فیصد پر لایا جائے، بونس شیئرز پر ٹیکس ختم کیاجائے، فاٹا پاٹا کو ٹیکس کی چھوٹ تین سال میں ختم کی جائے، ٹیکس ری فنڈ حاصل کرنے والوں کی فہرست شائع کی جائے۔
تجاویز میں کہا گیا کہ انڈر انوائسںنگ کی روک تھام کے لیے درآمدات کا ڈیٹا پبلک کیا جائے، ٹیکس ریٹرن فائلنگ کے نظام کو ڈیجیٹل اور دیگر سرکاری محکموں کے ساتھ منسلک کیا جائے، کم سے کم قابل ٹیکس آمدن کی حد 12 لاکھ روپے مقرر کی جائے، 6 لاکھ روپے تک کی آمدن پر 1000 روپے کا ٹوکن ٹیکس وصول کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہزار روپے کا کیا جائے نوٹ بند
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔