وہ وقت دور نہیں جب بابری مسجد کی بنیاد میں پہلی اینٹ پنڈی کا سپاہی رکھے گا، پلوشہ خان
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
پیپلز پارٹی کے تعلق رکھنے والی سینیٹر پلوشہ خان نے کہا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب بابری مسجد کی بنیاد میں پہلی اینٹ پنڈی کا سپاہی رکھے گا اور پہلی اذان جنرل حفظ عاصم منیر دیں گے۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ پاکستان میں صرف 7لاکھ فوج نہیں بلکہ 25کروڑ لوگ پاکستان کے ساتھ ہیں، جو ہاتھ اس طرف بڑھے گا وہ کاٹ دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت نے کوئی شرارت کی تو دہلی کے لال قلعے کی فصلیں کشت و خون سے بھر دیں گے اور جو آنکھ پاکستان کی طرف میلی نظر سے دیکھے گی وہ پھوڑ دی جائے گی۔
پلوشہ خان نے کہا کہ مودی کے کتورے کہتے ہیں وہ راولپنڈی سے چیخوں کی آواز سننا چاہتے ہیں۔ ہوگو شاویز نے کہا تھا جو ہم پر حملہ کرے گا ان کی لاشیں درختوں پر لٹکائیں گے، یہی میسج پاکستان سے بھی انڈیا کو جانا چاہیے ہم کسی جارحیت کو قبول نہیں کریں گے۔
پیپلز پارٹی کے سینیٹر کا کہنا تھا کہ مودی کے کتورے وہاں سے اسٹوڈیو سے بیٹھ کر چلاتے ہیں، ڈھولک کی تھاپ اور جنگی گھوڑوں کی ٹاپ میں بڑا فرق ہوتا ہے، ان کی فوج تقیسم کا شکار ہے اور کوئی سکھ پاکستان پر حملہ کرنے کو تیار نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔