بھارت؛ کرکٹ میچ کے دوران پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے پر نوجوان بیدردی سے قتل
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
بھارتی ریاست کرناٹک کے شہر منگلور میں کرکٹ میچ کے دوران ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگانے پر نوجوان کو ہندوتوا کے جنونیوں نے بہیمانہ تشدد کرکے مار ڈالا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ منگلور شہر کے بھاترا کلورتی مندر کے قریب پیش آیا جہاں کرکٹ کا میچ جاری تھا۔
میچ کے دوران کسی بات پر مقتول نوجوان کا سچن نامی نوجوان سے جھگڑا ہوا تھا جس پر وہ اپنے ساتھیوں کو بھی بلایا۔
تشدد پر مائل اس ہجوم نے لاٹھی، ڈنڈے اور راڈوں سے حملہ کردیا۔ بہیمانہ تشدد سے لڑکے کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی۔
پولیس نے کھیل کے میدان پر پہنچ کر لاش کو برآمد کرکے قتل کے الزام میں 15 افراد کو گرفتار کرلیا جب کہ 3 افراد فرار ہوگئے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق موت کی وجہ اندرونی چوٹیں اور زیادہ خون بہنے کے باعث ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
پولیس نے تاحال قتل ہونے والے نوجوان کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :