ایف آئی اے کی کارروائی، اربوں روپے کی جعلی الاٹمنٹس میں ملوث سی ڈی اے افسران گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے مبینہ طور پر اربوں روپے کی جعلی الاٹمنٹس میں ملوث کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے 5 افسران کو گرفتار کرلیا۔
ایف آئی اے سے جاری بیان کے مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے بڑی کارروائی کی اور اس دوران مبینہ طور پر کرپشن اور بدعنوانی میں ملوث سی ڈی اے اسلام آباد کے 5 افسران کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ گرفتار ہونے والے ملزمان میں اصغر علی، راجا شعیب ملال، تیمور احمد، عنایت اللہ اور آفتاب احمد شامل ہیں، جو سی ڈی اے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدوں پر فائز تھے۔
ایف آئی اے نے کہا کہ ملزمان کی گرفتاری اسپیشل جج سینٹرل II اسلام آباد سے ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ ہونے پر عمل میں لائی گئی ہے اور ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان نے جعلی اراضی کے متاثرین ظاہر کر کے اسلام آباد کے سیکٹرز آئی-14، ای-11اور ڈی-13 میں غیر قانونی طور پر 43 پلاٹس الاٹ کیے۔
بیان میں بتایا گیا کہ غیر قانونی الاٹمنٹس سے قومی خزانے کو تقریباً ایک ارب روپے کا نقصان پہنچا، ملزمان جعلی فائلوں کی بنیاد پر پلاٹس الاٹ کر کے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، ملزمان کے ساتھ شریک دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کاروائیاں جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ایف آئی اے میں ملوث سی ڈی اے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔