پہلگام فالس فلیگ کے بعد بھارت پر جنگی جنون سوار ہے اور روایتی انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مودی سرکار نے سرحدی علاقے خالی کروانا شروع کردیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام عائد کرنے کے لیے میڈیا پروپیگنڈا کا سہارا لیا، اور اس کے بعد اب مودی سرکار نے جنگی جنون میں مبتلا ہو کر پاک بھارت سرحد سے متصل دیہات کو خالی کرانے کا عمل شروع کررکھا ہے۔

ذرائع  نے بتایا کہ بھارتی فوج نے سامبا، کٹھوا اور اکھنور سیکٹر میں مزید دیہات خالی کروا لیے ہیں۔ اس سے قبل اٹاری سیکٹر میں بھی بھارت نے گرودواروں سے اعلانات کروا کر عوام کو فصلوں کی کٹائی کے لیے احکامات دیے تھے۔

بھارت نے اپنے ہی عوام کو حقائق سے بے خبر رکھنے اور ہندوتوا کا زہریلا پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے سیکڑوں پاکستانی چینلز کو بھی بلاک کروا دیا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی عوام کی بڑی تعداد مودی سرکار کی غیر منطقی پالیسیوں اور انتہا پسندی سے دلبرداشتہ ہے۔ بھارت کی جانب سے بغیر ثبوتوں کے خود پر جنگی جنون سوار کرنا مودی سرکار کی ناکامی کی واضح علامت ہے۔

پہلگام فالس فلیگ کے بعد بھارتی حکومت کے انتہا پسندانہ اقدامات اس کی داخلی سیاسی مشکلات، عالمی سطح پر تنہائی اور اس کے خطرناک عزائم کو بھی آشکار کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے بعد بھارت مودی سرکار جنگی جنون

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار