Daily Sub News:
2026-07-24@06:42:36 GMT

چین میں نجی معیشت کی ترقی کا قانون   20 مئی سے نافذ ہوگا

اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT

چین میں نجی معیشت کی ترقی کا قانون   20 مئی سے نافذ ہوگا

چین میں نجی معیشت کی ترقی کا قانون   20 مئی سے نافذ ہوگا WhatsAppFacebookTwitter 0 30 April, 2025 سب نیوز


بیجنگ :قومی عوامی کانگریس کی چودہویں   اسٹینڈنگ کمیٹی کے پندرہویں  اجلاس میں “عوامی جمہوریہ چین کے نجی معیشت کو فروغ دینے کے قانون” کو ووٹنگ کے ذریعے منظور کر لیا گیا۔ اس قانون میں 9 ابواب شامل ہیں، جن میں عمومی اصول، منصفانہ مقابلہ، سرمایہ کاری اور فنانس کو فروغ دینا، سائنسی اور تکنیکی اختراعات، معیاری کاروبار، خدمات کی ضمانت، حقوق کا تحفظ، قانونی ذمہ داری، اور اضافی دفعات شامل ہیں۔

یہ قانون 20 مئی 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔نجی معیشت کی ترقی سے متعلق چین کے پہلے بنیادی قانون کی حیثیت سے،  یہ قانون نجی معیشت کی  ترقی کے  عمومی ماحول کو مزید بہتر بنائے گا،  تمام  اقسام کی اقتصادی تنظیموں کے  مارکیٹ کے مقابلے میں منصفانہ شرکت  کو یقینی بنائے گا ،

نجی معیشت اور نجی اقتصادی عملے کی صحت مند ترقی کو فروغ دے گا  اور ایک اعلیٰ سطحی سوشلسٹ مارکیٹ اقتصادی نظام کی تعمیر اور قومی اقتصادی ترقی اور سماجی ترقی میں نجی معیشت کے  اہم  کردار کو  ادا کرنے میں مدد دے گا ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹیرف غنڈہ گردی سے امریکہ کو نقصان ہوا، چینی میڈیا ٹیرف غنڈہ گردی سے امریکہ کو نقصان ہوا، چینی میڈیا امریکی ماہر کا مطالبہ، چھو سلک مسودات واپس کیے جائیں پاک بھارت کشیدگی اسٹاک مارکیٹ کو لے بیٹھی،3 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی چینی صدر کا شنگھائی میں مصنوعی ذہانت کی صنعت کا دورہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، انڈیکس میں 1600 پوائنٹس سے زائد کمی آئندہ 15روز کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رہنے کا امکان TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: نجی معیشت کی

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن