اسرائیل نے حملہ کیا تو پورا خطہ دھماکوں سے لرزاٹھے گا، ایران کا انتباہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
تہران (اوصاف نیوز) اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو ایسا ہو گا جیسے بارود کے ڈھیر کو آگ لگا دی جائے . اور اس کا نتیجہ پورے خطے میں تباہی کی صورت میں نکلے گا۔
قالیباف نے گذشتہ روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ان بیانات کو بے وقعت قرار دیا جن میں ایرانی ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات کا ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔
قالیباف نے مزید کہا کہ اسرائیل، واشنگٹن کی اجازت کے بغیر کسی بھی “مہم جوئی” کا ارتکاب نہیں کرے گا، تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو “ایران امریکی اڈوں کو نشانہ بنا کر جواب دے گا”۔ کو جواب دے گا”۔
ایرانی اسپیکر کی جانب سے یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی انتظامیہ نے کل ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ وہ اُن تمام افراد اور اداروں کا احتساب جاری رکھے گی جو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیزنٹ کے مطابق “ایران کی جانب سے میزائلوں اور دیگر عسکری صلاحیتوں کی تیز رفتار ترقی، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے”۔ انھوں نے مزید کہا کہ “یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کرتی ہے اور ان بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے جن کا مقصد ان ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کو روکنا ہے”۔
مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں جدید اسلحہ سےبھرے ٹرک پہنچادیئے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
رپورٹ میں ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے ایک ایسا پل، جسے اسرائیلی فوج نے تین بموں سے نشانہ بنایا تھا، صرف چند دنوں میں دوبارہ تعمیر کر دیا۔ اس عہدیدار کے مطابق اس پیش رفت نے اسرائیلی فوجی کمانڈروں کو حیران کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر حیران ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں اسرائیلی اور مغربی حکام کے حوالے سے، نیز سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے کی بنیاد پر، رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے متاثر ہونے والے اپنے بنیادی ڈھانچے کا ایک بڑا حصہ مختصر عرصے میں دوبارہ تعمیر کر لیا ہے۔ اخبار کے مطابق اس پیش رفت نے بعض اسرائیلی حکام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تعمیرِ نو میں پہاڑوں کے اندر قائم میزائل اڈے، پل، بندرگاہیں اور صنعتی پیداواری تنصیبات شامل ہیں، اور اس کام کی رفتار اسرائیلی حکام کے ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ تیز رفتار بحالی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کی وسیع فضائی مہم کے باوجود، جس میں جنگ کے عروج پر 20 ہزار سے زائد حملے کیے گئے اور اب بھی ایران کے ساحلی علاقوں میں جاری ہے، اپنی دفاعی اور صنعتی صلاحیت کو برقرار رکھنے اور بحال کرنے کی قابلِ ذکر استعداد رکھتا ہے۔
اخبار نے سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ کنگاور کے قریب مارچ میں ہونے والے فضائی حملوں میں ایک میزائل اڈے کی دو سرنگوں کے داخلی راستے اور وہاں جانے والی سڑک تباہ کر دی گئی تھی، تاہم چند ہی ہفتوں بعد نئی تصاویر میں اس مقام پر نئی پختہ سڑک اور تازہ کھودی گئی سرنگوں کے داخلی راستے دکھائی دیے۔رپورٹ میں ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے ایک ایسا پل، جسے اسرائیلی فوج نے تین بموں سے نشانہ بنایا تھا، صرف چند دنوں میں دوبارہ تعمیر کر دیا۔ اس عہدیدار کے مطابق اس پیش رفت نے اسرائیلی فوجی کمانڈروں کو حیران کر دیا اور انہیں اپنے حملوں کی مؤثریت پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا۔ رپورٹ کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے کہ جولائی کے اوائل کی سیٹلائٹ تصاویر سے بندر انزلی میں واقع ایک جہاز سازی کے کارخانے کے بعض حصوں کی تعمیرِ نو کا آغاز بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اسرائیل اس تنصیب کو آئی آر جی سی سے منسلک قرار دیتا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسرائیل نے مارچ میں اس کمپلیکس، بندرگاہی تنصیبات، کمانڈ سینٹر اور دیگر اہداف کو اس مقصد سے نشانہ بنایا تھا کہ روس اور ایران کے درمیان سازوسامان کی ترسیل کے راستے کو منقطع کیا جا سکے۔ اسرائیل کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام کے سابق کمانڈر ران کوخاو نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو میں کہا: "انہوں نے اپنے اسلحہ خانے دوبارہ بھر لیے ہیں۔ ایران کے پاس صنعتی صلاحیت اور تعمیرِ نو کی غیر معمولی استعداد موجود ہے۔" وال اسٹریٹ جرنل نے مزید لکھا کہ اگرچہ ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے اب بھی ایک مہنگے اور وقت طلب عمل کا سامنا ہے، تاہم بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار بحالی نے ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے ان دعوؤں کو چیلنج کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی صلاحیتوں کو فیصلہ کن اور تباہ کن نقصان پہنچایا گیا ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر یہ بھی کہا گیا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو اپنے اپنے ممالک میں ان اہداف کے حصول میں ناکامی پر سیاسی دباؤ کا سامنا ہے جن میں ایران میں نظام کی تبدیلی، ایرانی جوہری پروگرام کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھلوانا شامل تھا۔