Express News:
2026-07-24@14:47:38 GMT

موسمیاتی تبدیلی انسانی بقاء کے لئے خطرہ

اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT

سینٹر شیری رحمان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف نوجوانوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی چیئرپرسن سینٹر شیری رحمان کا موسمیاتی تبدیلی کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی انسانی بقاء کے لئے خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور سندھ کے کچھ علاقوں میں پانی کی شدید کمی ہے۔ کلائمیٹ کی سیاست کریں اور اس پر بات کریں۔ موسمیاتی تبدیلی سائنس بیس ایشو ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 73% پاکستان کے نوجوان کلائمیٹ چینج کے بارے میں لاعلم ہیں ۔ 16% طلباء کہتے ہیں کبھی موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں سنا نہیں جبکہ 83% کہتے ہیں وہ موسمیاتی تبدیلی پر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن راستہ نہیں معلوم۔

شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ 10% خواتین مردوں سے زیادہ موسمیاتی تبدیلی پر کام کرنے کی خواہاں ہیں۔

سینیٹر کا کہنا تھا کہ صاف پانی کے بغیر مہلک بیماریاں واپس آرہی ہیں۔ صاف پانی اور صفائی ستھرائی بہت لازم ہے۔ پولیو پاکستان میں صفائی کی کمی کی بنا پر ہوا۔ ہمیں پولیو کو پاکستان میں روکنا ہے۔

شیری رحمان نے مزید کہا کہ ہمارے ملک میں ہزاروں لوگ فضائی آلودگی سے مارے جاتے ہیں۔ لاہور میں آپ دیکھ سکتے ہیں اسموگ کی صورتحال۔ نیو دہلی سے بات کرنا مشکل ہوچکا ہے۔ وہ دونوں ممالک کے درمیان فضا اور پانی کی دیواریں بنا رہے ہیں۔ اپریل میں درجہ حرارت 53 تک پہنچ چکا ہے۔ حکومت اکیلے اس سب سے نہیں مقابلہ کر سکتی۔ اینٹوں کے بھٹے، فصلوں کے جلنے اور بارڈر پار سے آنے والی آلودگی کی بنا کر پنجاب میں آلودگی ہوتی ہے۔ ہر حکومت کو ذمہ داری لیتے ہوئے کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایف 9 پارک جائیں، درخت کاٹنے والوں کو روکیں۔ 97 اسکول جانے کے دن موسمیاتی تبدیلی کی بنا پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ پانی ضائع کرنا ختم کرنا ہوگا، پانی بچائیں۔ ہمارا ایک تہائی ملک پانی میں پیچھے ہے۔ سندھ نے بدترین سیلاب کا سامنا کیا تھا۔ بڑی تعداد میں لوگ اس سیلاب کے باعث دربدر ہوئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی کہا کہ

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • دہشتگردی خطے کے لیے بڑا خطرہ ہے، اسحاق ڈار کا ایس سی او سمٹ میں خطاب
  • سیالکوٹ میں نالہ ایک کا بند ٹوٹ گیا، دھان کی سینکڑوں ایکڑ فصل کو خطرہ
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • زندگی کا مقصد
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ