مجھے پوپ بنایا جائے ، ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
مجھے پوپ بنایا جائے ، ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 30 April, 2025 سب نیوز
واشنگٹن (سب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ازراہ مذاق کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ پوپ فرانسس کی جگہ انہیں کیتھولک مسیحیوں کا روحانی پیشوا بنا دیا جائے۔
امریکی صدر سے پوچھا گیا تھا کہ وہ کسے پوپ دیکھنا چاہتے ہیں جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں ہی پوپ بنایا جائے یہ انکی اولین ترجیح ہو گی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں کہا کہ انکی کوئی ترجیح تو نہیں تاہم ایک کارڈینل نیویارک میں بھی ہیں جو بہت اچھے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔
واضح رہے پوپ کے انتخاب کے لیے 135 کارڈینلز اگلے ماہ ویٹی کن میں جمع ہوں گے۔ پاپائے روم آج تک امریکا سے منتخب نہیں کیا گیا۔امریکی میڈیا کے مطابق نیویارک کے آرچ بشپ کارڈینل ٹموتھی ڈولن ان ممکنہ شخصیات میں شامل نہیں جن کے نام پر غور ہو گا تاہم نیوجرسی کے آرچ بشپ کارڈینل جوزف ٹوبین کا نام اس فہرست میں ہے جن کے نام پر غور کیا جاسکتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارتی فوج کا مقابلہ کرینگے، پاک فوج کیلئے بھارتی پنجاب میں لنگر لگائیں گے، سکھ رہنماگرپتونت سنگھ پنوں بھارتی فوج کا مقابلہ کرینگے، پاک فوج کیلئے بھارتی پنجاب میں لنگر لگائیں گے، سکھ رہنماگرپتونت سنگھ پنوں مودی سرکار نے کشیدگی اتنی بڑھا دی ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا، سابق بھارتی ائیر وائس مارشل چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیرِ صدارت اہم اجلاس، ملازمین کو علاج و معالجہ کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے حوالے... پورا خطہ بھارت کے غیرذمہ دارانہ اقدامات کی وجہ سے خطرے میں ہے، نائب وزیراعظم ،ترجمان دفتر خارجہ، ترجمان پاک فوج کی مشترکہ نیوز... اسحق ڈارسے امریکی ناظم الامورکی ملاقات، خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان سمیت کئی ممالک میں دہشتگردی کے واقعات میں بھارت ملوث ہے، اسحاق ڈار
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔