اے کے بھارتی نے بے وقوف بنایا، امریندر سنگھ نے رافیل گرنے کے شواہد پیش کردیئے
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
اپوزیشن جماعت کانگریس سے تعلق رکھنے والے امریندر سنگھ کا لوک سبھا اجلاس میں کہنا تھا کہ پہلگام ہوا، کون معافی مانگے گا، کون ذمہ داری لے گا۔؟ یہ انٹیلی جنس کی ناکامی تھی، بھارتی حکومت نے فوج کو حملہ کرنے کے لیے بھیج تو دیا لیکن ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر طیاروں میں بٹھایا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی رکن پارلیمنٹ امریندر سنگھ نے پاک فضائیہ کے ہاتھوں بھارتی رافیل طیارہ گرائے جانے کے شواہد لوک سبھا اجلاس میں پیش کردیے۔ اپوزیشن جماعت کانگریس سے تعلق رکھنے والے امریندر سنگھ کا لوک سبھا اجلاس میں کہنا تھا کہ پہلگام ہوا، کون معافی مانگے گا، کون ذمہ داری لے گا۔؟ یہ انٹیلی جنس کی ناکامی تھی، بھارتی حکومت نے فوج کو حملہ کرنے کے لیے بھیج تو دیا لیکن ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر طیاروں میں بٹھایا گیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے ردعمل کے نتیجے میں بھارت کے 5 طیارے گرے، بھسیانہ ایئر فورس اسٹیشن کے پاس رافیل لڑاکا طیارے کا ملبہ گرا، انہوں نے اس موقع پر طیارے کے ملبے کی تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ میں اس کی فوٹو لے کر آیا ہوں، اس کی دم گری اور میں وہاں پر خود گیا، جس پر BS-001 درج تھا جو کہ رافیل طیارہ گرا۔ بھارتی رکن پارلیمنٹ امریندر سنگھ نے مزید کہا کہ رافیل طیارہ گرنے کی وجہ سے ایک شخص ہلاک اور 9 زخمی ہوئے، بھارتی فضائیہ کے ائیر مارشل اے کے بھارتی نے طیارہ گرنا تسلیم کیا لیکن کہا کہ ایک نامعلوم طیارہ گرا ہے، آپ نے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی۔
بھارتی رکن پارلیمنٹ امریندر سنگھ کا مزید کہنا تھا کہ آپ کے دوست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہہ دیا کہ بھارت کے 5 لڑاکا طیارے گرے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 19 جولائی کو بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس بارے میں واضح وضاحت پیش کریں کہ حالیہ بھارت-پاکستان فوجی تصادم کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے کے مطابق 5 لڑاکا طیارے مار گرائے گئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریندر سنگھ کہنا تھا کہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔