بھارتی وزیر داخلہ کا مضحکہ خیز دعویٰ؛ پہلگام میں حملہ آوروں سے پاکستانی چاکلیٹ ملی تھی
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
پاک فضائیہ کی جانب سے دھول چٹانے پر بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے خفگی مٹانے کے لیے لوک سبھا میں ایسا مضحکہ خیز دعویٰ کردیا جس سے انھیں پوری دنیا میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بھارت کے سابق وزیر داخلہ چدم برم نے کہا تھا کہ مودی حکومت کے پاس ایسے کوئی شواہد موجود نہیں جن سے یہ ثابت ہو کہ پہلگام میں حملہ آور پاکستان سے آئے تھے۔
تاہم موجودہ وزیر داخلہ امیت شاہ کو یہ کڑوا سچ ہضم نہیں ہوا اور لوک سبھا میں ہونے والی کڑی تنقید پر اپنی خفت مٹانے کے لیے ایک بار پھر بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کردی۔
امیت شاہ نے کہا کہ پہلگام واقعے میں ملوث حملہ آورں کے پاس سے "پاکستانی چاکلیٹ" ملی جس سے ثابت ہوا کہ وہ پاکستان سے آئے تھے۔
امیت شاہ نے اپنے سابق سابق وزیر داخلہ چدم برم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کو کلین چٹ کیوں دے رہے ہیں؟
بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے الزام لگایا کہ چدم برا کا یہ مؤقف اپنانے کا مقصد صرف پاکستان کو بچانا ہے۔
امیت شاہ نے اپنی تقریر میں یہ بے سر و پا دعویٰ بھی کیا کہ پہلگام حملے میں ملوث تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں فائرنگ کے ایک واقعے میں 26 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
اس حملے کے فوری بعد بھارت نے بغیر کسی تحقیق کے الزام پاکستان پر عائد کر دیا تھا لیکن ثبوت فراہم نہ کرپانے کی وجہ سے اپوزیشن اور دنیا بھر سے کڑی تنقید کا سامنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ امیت شاہ
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔