آپریشن مہادیو: دہشتگردوں کو پاکستانی ثابت کرنے کیلئے بھارتی وزیر داخلہ کے مضحکہ خیز ثبوت
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
بھارت کی پارلیمان (لوک سبھا) میں خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایک بار پھر پاکستان پر بے بنیاد الزامات کی روایت برقرار رکھی، اور ”آپریشن مہادیو“ کے نام پر تین افراد کی ہلاکت کو اپنی حکومت کی کامیابی قرار دیا۔ امیت شاہ نے دعویٰ کیا کہ یہ تینوں افراد اپریل 22 کو پہلگام حملے میں ملوث تھے، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم، بھارتی حکومت نے حسبِ معمول کوئی آزاد یا غیر جانب دار شواہد پیش نہیں کیے۔ بلکہ جن چیزوں کو شواہد بناکر پیش کیا وہ انتہائی ناقابل اعتبار تھیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق امیت شاہ نے کہا کہ مارے گئے افراد میں ”سلیمان، افغانی اور جبران“ شامل تھے۔ حیران کن طور پر، امیت شاہ نے ان افراد کی شہریت کے بارے میں متضاد دعوے کیے: ایک جانب وہ انہیں پاکستانی قرار دے رہے تھے، تو دوسری جانب دعویٰ کر رہے تھے کہ انہیں مقامی افراد نے پناہ دی۔ اور پھر ثبوت کے طور پر ”پاکستانی چاکلیٹ“ اور ”ووٹنگ نمبر“ جیسے دلائل پیش کیے۔
شاہ نے کہا کہ پیر کے روز جھڑپ کے مقام سے ملنے والے رائفل کے کارتوس سری نگر حملے میں استعمال ہونے والے کارتوسوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جن افراد کی لاشیں ملی ہیں، اُن کی شناخت اُن مقامی لوگوں نے کی جنہوں نے اپریل کے قتلِ عام سے قبل انہیں خوراک اور پناہ فراہم کی تھی اور انہی افراد کو گرفتار کرکے ہلاک دہشتگردوں کی شناخت کرائی گئی۔
امیت شاہ نے دعویٰ کیا کہ ہلاک شدہ افراد کے ہتھیاروں کی بیلیسٹک جانچ کی ”چھ سائنسدانوں“ نے ”ویڈیو کال“ پر تصدیق کی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک ایسا ملک جو چاند پر مشن بھیجنے کا دعویدار ہے، وہاں فائرنگ کے شواہد بھی ویڈیو کال پر دکھا کر تسلیم کروائے جا رہے ہیں۔
امیت شاہ کے دعوے کے مطابق ہلاک دہشت گردوں میں سے دو کے پاس اے کے 47 رائفل اور ایک کے پاس ایم 9 پستول تھی۔
انہوں نے کہا کہ جب یہ دہشتگرد مارے گئے تو ان کی رائفلیں قبضے میں لی گئیں۔ ایک ایم 9 تھی جبکہ دو اے کے-47 تھیں۔ ہم نے یہ رائفلیں ایک خاص طیارے کے ذریعے چندی گڑھ کی مرکزی فرانزک سائنس لیبارٹری بھجوائیں۔ وہاں ان رائفلوں سے گولیاں فائر کرکے خالی کارتوس تیار کیے گئے اور پھر ان کا پہلگام سے ملنے والے خولوں سے موازنہ کیا گیا۔ تب یہ تصدیق ہوئی کہ انہی تین رائفلوں کو ہمارے معصوم شہریوں کے قتل میں استعمال کیا گیا تھا۔
امیت شاہ نے کہا کوئی شبہ کی گنجائش نہیں۔ میرے ہاتھ میں بیلسٹک رپورٹ ہے، چھ سائنسدانوں نے اس کا دوبارہ جائزہ لیا اور ویڈیو کال پر مجھے تصدیق کی کہ پہلگام میں جو گولیاں چلیں اور ان رائفلوں سے جو گولیاں فائر ہوئیں، وہ 100 فیصد ایک جیسی ہیں۔آپریشن مہادیو“ کا اعلان بھی ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو لوک سبھا سے خطاب کرنا تھا اور آپریشن سندور کی ناکامی پر جوابات دینے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امیت شاہ نے نے کہا
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔