مستونگ، پسند کی شادی کرنے والا جوڑا 7 سال بعد غیرت کے نام پر قتل
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ یہ افسوسناک واقعہ منگل کی صبح لکپاس کے قریب نوشکی کراس کے مقام پر پیش آیا۔
لیویز تھانہ ولی خان کے ایس ایچ او پیر جان نے ’وی نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مقتولین کی شناخت محمد شعیب اور بے نظیر کے نام سے ہوئی ہے، جن کی عمریں 27 سے 28 سال کے درمیان تھیں۔ محمد شعیب کا تعلق پنجگور کے علاقے چتکان سے ہے جبکہ بے نظیر کا تعلق کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی سے تھا۔
ایس ایچ او نے بتایا کہ تقریباً 7 سال قبل دونوں نے گھر سے بھاگ کر کورٹ میرج کی تھی۔ کچھ عرصہ قبل شعیب اور اس کے سسرالی رشتہ داروں کے درمیان صلح ہو چکی تھی، جس کے بعد مقتولہ کے بھائیوں نے دونوں کو کوئٹہ بلایا، اور پیر کی شب شعیب اپنی اہلیہ اور بھائی کے ہمراہ پنجگور سے کوئٹہ کے لیے روانہ ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے کوئٹہ: غیرت کے نام پر قتل،جرگہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟
ایس ایچ او کے مطابق راستے میں مستونگ کے علاقے لکپاس کے قریب ایک ہوٹل میں رات گزارنے کے بعد، منگل کی صبح مقتولہ کے بھائیوں نے فون پر ان کی لوکیشن معلوم کی اور موقع پر پہنچ کر دونوں میاں بیوی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ واردات کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔
ایس ایچ او پیر جان کے مطابق مقتولہ حاملہ تھیں، اور ان کے 2 بچے، ایک 6 سال اور دوسرا 3 سال کا بھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے کوئٹہ: غیرت کے نام پر قتل، کہانی کا نیا موڑ، مقتولہ بانو کی مبینہ والدہ کا ویڈیو بیان منظرِ عام پر آگیا
لیویز فورس نے واقعے کا مقدمہ مقتولہ کے بھائیوں کے خلاف درج کر کے ان کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان غیرت کے نام پر قتل مستونگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان غیرت کے نام پر قتل مستونگ غیرت کے نام پر قتل ایس ایچ او
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت