بھارتی حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کے تمام انتظامات مکمل کرلیے، ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ بھارتی حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کے تمام انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔
یہ بات انہوں ںے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پہلگام حملے میں بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کا پردہ چاک کرتے ہوئے تکنیکی نکات کی نشاندہی دی اور بتایا کہ واقعے کے بعد جتنی تیزی سے الزام لگا اور اقدامات ہوئے اُس سے سب عیاں ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ پہلگام واقعے کے بعد ایسا کیسے ممکن ہے کہ کم از کم 30 منٹ کا راستہ دس منٹ میں طے ہو اور تھانے جاکر ایف آئی آر درج کی جائے اور پھر پولیس واپس وقوعہ پر آجائے۔ ایف آئی آر کا مطالعہ کریں تو اندازہ ہوگا کہ بھارت نے دس منٹ کے اندر ہی واقعے اور ملزمان کا تعلق پاکستان سے جوڑا جو اس بات کی عکاسی ہے کہ یہ سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔
میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ اس واقعے کے ذریعے مذہبی انتشار پھیلانے کی کوشش کی گئی اور تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر صرف ہندوؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
جعفر ایکسپریس اور پہلگام میں ایک ہی سوشل میڈیا اکاؤنٹس استعمال ہوئے
انہوں نے کہا کہ دوپہر تین بج کر 05 منٹ پر بھارت کی خفیہ ایجنسیز سے وابستہ اکاؤنٹس نے سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کیا اور پھر ساڑھے تین بجے بھارتی میڈیا نے بھی پہلگام واقعے کا الزام پاکستان پر لگایا، جعفر ایکسپریس اور پہلگام میں ایک ہی سوشل میڈیا اکاؤنٹس استعمال ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پھر چار بجے یہ پروپیگنڈا شروع ہوا کہ دہشت گرد مسلمان ہے جبکہ ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کا تعلق کسی مذہب یا قوم سے نہیں ہے۔
اس موقع پر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کشمیریوں، بھارتی شہریوں اور سیاست دانوں سمیت صحافیوں کے بیانات بھی چلائے جس میں مودی حکومت، بھارتی فوج پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہی سوالات ہم، پوری دنیا کررہی ہے اور یہ پہلی بار نہیں ہوا بلکہ بھارت میں دہشت گردی کے واقعات کو سیاست بچانے کیلیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پلوامہ حملے کو بھی سیاسی طور پر استعمال کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کیا گیا۔
ترجمان پاک فوج نے انکشاف کیا کہ پہلگام حملے کے بعد ایکٹیو ہونے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس جعفر ایکسپریس حملے کے بعد ایکٹیو ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کو الزام تراشی کے علاوہ ان باتوں کا جواب دیا جائے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیکڑوں پاکستانی بھارتی جیلوں میں قید ہیں جنہیں پہلگام حملے کے بعد جعلی مقابلوں میں مار کر دہشت گرد قرار دیا جائے گا۔ اس موقع پر انہوں نے کئی قیدیوں کی حراست کی تاریخ کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔
پریس کانفرنس میں بھارت میں قید پاکستانیوں جنہیں جعلی مقابلے میں دہشت گرد قرار دے کر شہید کیا گیا اُن کے اہل خانہ کے انٹرویوز بھی چلائے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ 24 اپریل کو بھارتی فوج نے 54 سالہ فاروق کو جعلی مقابلے میں قتل کیا۔ اس کے بعد کپواڑہ میں 23 اپریل کو ہونے والے جعلی مقابلے اور کشمیری شہری کی موت کے بعد بھارتی فوجیوں کی جانب سے لاش کی بے حرمتی کی ویڈیو بھی چلائی گئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کی اسپانسرڈ دہشت گردی اور ملزمان کے اعترافی بیان کی ویڈیو بھی چلائی جس میں بیشتر بلوچ علیحدگی پسندوں نے بتایا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلیے بھارت کی خفیہ ایجنسی اور بھارت متحرک ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس حملے میں دہشت گردوں کی بنائی گئی ویڈیو کو بھارتی چینلز نے نشر کیا۔ اس کے علاوہ اے آئی تصاویر بھی بھارتی چینلز نے نشر کیں جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ہماری تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ فتنہ الخوارج کو بھی بھارت کی پش پناہی حاصل ہے۔
جنوری سے اب تک دہشت گردی کے 3700 واقعات میں 3896 شہری جاں بحق
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ جنوری سے اب تک دہشت گردی کے 3 ہزار 700 واقعات ہوئے جن میں 3 ہزار 896 شہری جبکہ 1314 سیکیورٹی فورسز کے جواب شہید ہوئے، اس کے علاوہ 2582 زخمی ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے 77 ہزار 816 آپریشنز کیے جن میں 1 ہزار 666 دہشت گرد مارے گئے، جس میں 83 ہائی ویلیو ٹارگٹ بھی ہیں۔
پہلگام واقعے کے بعد ہزاروں کشمیریوں کو حراست میں لیا گیا جبکہ درجنوں گھر بلڈوز کردیے
انہوں نے بتایا کہ پہلگام واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز اور انتظامیہ نے متعدد گھر مشتبہ قرار دے کر بلڈوز کردیے جبکہ ہزاروں کشمیریوں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا اور سیکڑوں کو روزانہ ہراساں کیا جارہا ہے۔
پاکستان جواب دینے کیلیے کن آپشنز کا انتخاب کرے گا؟
اس سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم صورت حال کو دیکھ رہے ہیں، ہمارا رسپانس اور ردعمل تیار ہے، نیشنل سیکیورٹی کونسل میٹنگ کے مطابق ہمارے پاس آپشنز ہیں، ہم ہر صورت پاکستان کا دفاع کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ حملے کی صورت میں ہم بھارت کو فضا سے زمین تک ہر محاذ پر جواب دینے کے لیے تیار ہیں، حملہ کہاں ہوگا یہ بھارت کا انتخاب ہے آگے کہاں جانا ہے یہ ہم بتائیں گے، بھارت کی حکمت عملی ہوسکتی ہے کہ ہمیں مشرقی سرحد پر مصروف رکھے تاہم ہماری فوج ہر محاذ پر جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جعفر ایکسپریس پہلگام واقعے دہشت گردی کے واقعے کے بعد سوشل میڈیا بھارت کی کہ بھارت
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔