بھارت میں دورانِ علاج فوت ہونیوالے آریان شاہ کی میت کوئٹہ پہنچادی گئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
بھارت میں دورانِ علاج فوت ہونے والے کوئٹہ کے رہائشی آریان شاہ کی تدفین آج مقامی قبرستان میں کی جائے گی۔
مرحوم کے والد کے مطابق آریان شاہ کی میت کراچی سے کوئٹہ پہنچادی گئی ہے اور تدفین آج 10 بجے مقامی قبرستان میں کی جائے گی۔
بھارت میں دوران علاج انتقال کرجانے والے آریان شاہ کی میت غیر ملکی ایئر لائن کے عملے کی غفلت کے باعث کراچی پہنچائی نہ جاسکی۔
آریان شاہ کی میت بھارتی شہر چنئی سے کولمبو کے راستے گزشتہ شام کراچی لائی گئی تھی۔
کوئٹہ کے رہائشی آریان شاہ کا 25 اپریل کو بھارت کے شہر چنئی میں دورانِ علاج انتقال ہوا تھا۔ وہ دل اور پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: آریان شاہ کی شاہ کی میت بھارت میں
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔