ملک بھر میں عام تعطیل:اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقاتیں معطل
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
ویب ڈیسک:مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل کے باعث اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان سے کسی قسم کی ملاقات نہیں ہو سکے گی۔
جیل ذرائع کے مطابق تعطیل کے باعث قیدیوں اور حوالاتیوں سے عام ملاقاتیں بھی معطل رہیں گی،پی ٹی آئی رہنما انتظار پنجھوتھا نے بانی پارٹی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ سینئر سیاسی رفقا کی فہرست جیل حکام کو ارسال کی تھی۔ اس فہرست میں سید فخر جہان، سہیل خان، شاہد خٹک، میاں غوث، اظہر طارق، اور بلال عمر بودلہ کے نام شامل تھے تاہم تعطیل کی وجہ سے اب یہ ملاقات اگلے ہفتے ممکن ہو سکے گی۔
بس سٹاپس پر پنکھوں، الیکٹرک واٹر کولر کی چوری کو روکنے کا نیا حل
جیل انتظامیہ کے مطابق عام تعطیلات کے دوران سکیورٹی اور دیگر انتظامی وجوہات کی بنا پر ملاقاتوں پر پابندی عائد کی جاتی ہے اور اس حوالے سے تمام قیدیوں کے اہل خانہ اور متعلقہ حلقوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے کے آغاز میں معمول کے مطابق ملاقاتوں کا شیڈول دوبارہ جاری کیا جائے گا، جس کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ان کے سیاسی رفقا کی ملاقات کا امکان ہے۔
پاکستان ائیر فورس کی بروقت کارروائی،بھارتی رافیل طیارے راہ فرار اختیار کر گئے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔