اسحاق ڈار سے نٹالی بیکر کی ملاقات، علاقائی پیشرفت پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
امریکی ناظم الامور کی وزیر خارجہ کی ملاقات کی دوران وزیر خارجہ نے علاقائی امن و سلامتی کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، وزیر خارجہ نے قومی مفادات کے تحفظ پر بھی زور دیا، امریکی ناظم الامور نے کشیدگی میں کمی کی امریکی خواہش کا اظہار کیا۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سے امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے ملاقات کی، حالیہ علاقائی پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے علاقائی امن و سلامتی کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، اسحاق ڈار نے قومی مفادات کے تحفظ پر بھی زور دیا، امریکی ناظم الامور نے کشیدگی میں کمی کی امریکی خواہش کا اظہار کیا۔ امریکی ناظم الامور نے یقین دہانی کرائی کہ امریکا بدلتی ہوئی صورت حال میں دونوں ملکوں کے ساتھ رابطے میں رہے گا۔
اسحاق ڈار نے عمان کے وزیر خارجہ سے بھی رابطہ کیا، خطے کی صورتحال پر بریفنگ دی، بھارت کے پراپیگنڈا اور یکطرفہ اقدامات سے آگاہ کیا، اسحاق ڈار نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سے بھی آگاہ کیا۔ عمان کے وزیر خارجہ نے بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی ناظم الامور اسحاق ڈار
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔