دشمن کا پاکستان کیخلاف پروپینگڈہ کامیاب نہیں ہوگا، علامہ جاوید اکبر ساقی
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
لاہور پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں جمعیت اسلامیہ پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ پاکستانی قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، دشمن یہ سمجھتا ہے کہ وہ پروپیگنڈے اور سازشوں کے ذریعے قوم اور فوج میں دوری پیدا کر لے گا، تو یہ اس کی بھول ہے۔ قوم کا ہر فرد اپنے محافظوں کے ساتھ ہے، اور وطن کے ایک ایک انچ کے دفاع کیلئے متحد ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمیعت اسلامیہ پاکستان کے سربراہ علامہ غلام اکبر ساقی نے لاہور پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پوری قوم ایک کڑے امتحان سے گزر رہی ہے، لیکن پاکستانی عوام اور افواج پاکستان کے درمیان رشتہ ایمان، وفاداری اور تحفظِ وطن پر مبنی ہے، جو ناقابلِ شکست ہے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ مفتی نصراللہ عزیز مرکزی رہنما جمیعت اہلحدیث، علامہ ڈاکٹر بدر منیر مجددی سیفی مرکزی صدر علماء و مشائخ رابطہ کونسل پاکستان، صوبائی صدر غلام اکبر سیال ایڈووکیٹ پنجاب اور آغا قاسم علی عرفانی مرکزی رابط سیکرٹری بھی موجود تھے۔ علامہ غلام اکبر ساقی نے کہا کہ پاکستانی قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، دشمن یہ سمجھتا ہے کہ وہ پروپیگنڈے اور سازشوں کے ذریعے قوم اور فوج میں دوری پیدا کر لے گا، تو یہ اس کی بھول ہے۔ قوم کا ہر فرد اپنے محافظوں کے ساتھ ہے، اور وطن کے ایک ایک انچ کے دفاع کیلئے متحد ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکیاں، بٹگرام واقعے کو عالمی سطح پر اچھالنے کی کوششیں، اور پاکستان کو بدنام کرنے کی سازشیں دراصل ایک بڑی جنگی نفسیات کا حصہ ہیں۔ لیکن ہم دشمن کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان نہ جھکا ہے، نہ جھکے گا۔ ڈاکٹر افتخار حسین نقوی نے کہا کہ عالمی سامراجی قوتوں نے اقوام متحدہ کو ایک غیر موثر ادارہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں معصوموں کی نسل کشی اور عالمی خاموشی انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی فوج نے ہمیشہ دشمن کو منہ توڑ جواب دیا ہے، اور اب بھی اگر دشمن نے میلی آنکھ سے دیکھا، تو پوری قوم اپنی افواج کیساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہوگی۔
جمعیت اسلامیہ پاکستان کے صوبائی صدر غلام اکبر سیال ایڈووکیٹ نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر آل پارٹیز کانفرنس (APC) بلائی جائے، جس میں تمام مکاتب فکر اور سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر قومی بیانیہ مضبوط کیا جائے۔ "ہمیں دشمن کی چالوں کا جواب صرف اور صرف قومی یکجہتی، دانشمندی اور شعور سے دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام اتحاد سے ہوا، بقاء بھی اتحاد میں ہے۔ فوج اور قوم ایک جسم کی مانند ہیں۔ ہماری صفوں میں کسی قسم کی دراڑ ڈالنے والے عناصر کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر صوبائی صدر غلام اکبر سیال نے پوری قوم سے اپیل کی کہ وہ اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وطن کے دفاع اور استحکام کے لیے یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور قومی وحدت کو فروغ دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہا کہ پاکستان پاکستان کے غلام اکبر نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔