القادر ٹرسٹ کیس عمران خان کی سزا کے خلاف اپیل رواں سال نہیں ہوسکے گی
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔یکم مئی ۔2025 )اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاﺅنڈ( القادر ٹرسٹ کیس) میں 14 سال قید کی سزا کے خلاف سابق وزیراعظم عمران خان کی اپیل کی سماعت رواں سال نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے یہ رپورٹ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل کی جلد سماعت کے لیے دائر درخواست کے جواب میں ڈویژن بینچ کو جمع کرائی گئی ہے.
(جاری ہے)
ڈان نیوز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے عمران خان کی جانب سے جنوری 2025 میں دائر فوجداری اپیل کو غیر معینہ مدت کے لیے تاخیر کا سامنا ہے اور عدالت نے تصدیق کی ہے کہ رواں کیلنڈر سال کے دوران اس کیس کی سماعت نہیں ہوگی رپورٹ میں نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کی سفارشات کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق عدالت نے فروری 2023 میں زیر التوا معاملوں، خاص طور پر مجرموں کی طرف سے دائر اپیلوں میں تیزی لانے کے لیے”فکسیشن پالیسی“ کی منظوری دی تھی اہم اقدامات میں 5 سال سے زیادہ عرصے سے زیر التوا مقدمات کو 2 ماہ کے اندر حل کرنے کے لیے خصوصی بینچوں کی تشکیل شامل ہے تاہم ان ہدایات کے باوجود، 2025 کی اپیل جیسے نئے معاملے طریقہ کار کے التوا میں پھنسے ہوئے ہیں. رپورٹ کے مطابق 279 مجرموں کی اپیلیں عدالت میں زیر التوا ہیں جن میں سے 63 سزائے موت اور 73 عمر قید کے خلاف ہیں، 88 معاملوں میں سزا 7 سال سے زیادہ جب کہ 55 معاملوں میں 7 سال تک ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری 2025 میں دائر کی گئی اپیل 14 سال قید کی سزا پانے والے مجرم سے متعلق ہے، حال ہی میں دائر کیے جانے کے باوجود یہ مقدمہ موشن اسٹیج پر ہے جس میں داخلے سے پہلے لازمی قانونی دستاویزات تیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے رپورٹ میں طریقہ کار کی رکاوٹ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اپیل کے داخلے کے بعد دستاویزات تیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اب تک باقاعدگی سے سماعت کے لیے اس کا تعین کیلنڈر سال 2025 کے دوران نظر نہیں آتا ہے. رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ این جے پی ایم سی کی پالیسی کے تحت موجودہ ترجیحات کی وجہ سے جس میں پرانے مقدمات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے اور عمران خان کی اپیل 2025 میں باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کرنے کا کوئی امکان نہیں رکھتی ہے دوسری جانب قائم مقام چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بینچ نے بشریٰ بی بی کی 7 سال قید کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت آئندہ ہفتے ملتوی کردی ہے. درخواست گزاروں کی نمائندگی کرنے والے بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کے دفتر کی جانب سے فوری درخواستوں سے نمٹنے کے طریقہ کار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بینچ کو بتایا کہ تیسری بار عمران خان اس کیس میں جیل میں ہیں اور سزا معطلی کے لیے ہماری درخواستیں زیر التوا ہیں انہوں نے الزام لگایا کہ رجسٹرار کا دفتر متعلقہ درخواستوں پر کارروائی نہیں کر رہا اور اس کے بجائے دیگر اپیلوں کو غیر منصفانہ طور پر ترجیح دے رہا ہے. سلمان صفدر نے کہاکہ بشری بی بی کا اس کیس میں براہ راست کوئی کردار نہیں اور انہوں نے ان کے لیے فوری ریلیف کی درخواست کی وکیل نے لاہور سے سفری انتظامات کا حوالہ دیتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کرنے کی استدعا کی جس پر قائم مقام چیف جسٹس ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ میں آپ کو وہ دن بتاتا ہوں جس دن سماعت کروں گا. وکیل فیصل حسین کا کہنا تھا کہ تاخیر نے پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کی حکمت عملی کو بے نقاب کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ قانونی ٹیم عدالت کو قائل کرے کہ یہ کوئی معمول کا کیس نہیں ہے اور اس کی عجیب نوعیت ہونے کی وجہ سے اس کیس کی سماعت ہونی چاہیے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عمران خان کی کہا گیا ہے زیر التوا رپورٹ میں کی سماعت کی اپیل کے خلاف کی سزا کے لیے اس کیس
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش