خیبر پختونخوا: آپریشنز، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے واقعات میں 178 شہادتیں ہوئیں، پولیس رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف مختلف آپریشنز، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے واقعات میں 178 شہادتیں ہوئی ہیں۔
جاری کردہ پولیس رپورٹس کے مطابق صوبے بھر میں رواں سال کے ابتدائی 4 ماہ کے دوران مختلف واقعات میں 42 پولیس اہلکار شہید اور 53 زخمی ہوئے جبکہ رواں سال 68 شہری بھی شہید اور 166 زخمی ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق 4 ماہ میں ایف سی کے 33 اور سیکیورٹی فورسز کے 27 جوان شہید ہوئے۔
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تربت میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا۔
پولیس رپورٹ کے مطابق مختلف واقعات میں خاصہ دار فورس کے 8 اہلکار شہید جبکہ 8 زخمی ہوئے۔ لکی مروت میں سب سے زیادہ 7 اور بنوں میں 6 اہلکار شہید ہوئے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق رواں سال بنوں اور شمالی وزیرستان میں 10 افراد شہید جبکہ 38 افراد بھی زخمی ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: واقعات میں زخمی ہوئے کے مطابق
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔