‘کہتے ہیں بےوقوف اور جھوٹے کا پتہ ہی تب چلتا ہے جب وہ منہ کھولتا ہے’، ونسٹن چرچل کا غلط قول پوسٹ کرنے پر عمران خان تنقید کی زد میں
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما عمران خان نےکے ایکس اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ ہوئی جس میں انہوں نے پاکستان کی عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے وزیرِاعظم ونسٹن چرچل کا ایک قول پوسٹ کیا کہ’ اگر ہماری عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں، تو ہمیں شکست نہیں ہو سکتی‘
انہوں نے مزید لکھا کہ بدقسمتی سے، آج ہمارا عدالتی نظام اس معیار کے بالکل برعکس کھڑا ہے۔ انصاف نہ صرف تاخیر کا شکار ہے، بلکہ دانستہ طور پر دبایا جا رہا ہے۔ مجھے اور میری اہلیہ کو صرف سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر قید میں رکھا گیا ہے۔ میرے وکلا اور اہل خانہ سے ملاقات نہ ہونے دینا ان جعلی مقدمات کی قلعی کھول دیتا ہے۔
“دوسری جنگ عظیم کے دوران جب جرمن طیارے لندن پر بمباری کر رہے تھے تو وزیرِاعظم ونسٹن چرچل نے کہا تھا: “اگر ہماری عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں، تو ہمیں شکست نہیں ہو سکتی۔”
بدقسمتی سے، آج ہمارا عدالتی نظام اس معیار کے بالکل برعکس کھڑا ہے۔ انصاف نہ صرف تاخیر کا شکار ہے، بلکہ دانستہ…
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) April 30, 2025
تاہم عمران خان کے اس بیان کو لے کے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے جس کے دوران سوشل میڈیا صارفین اس بات پر تنقید کر رہے ہیں کہ چرچل کی تقاریر کےکسی مجموعہ میں یہ مبینہ قول موجود نہیں ہے۔
امریکا کے لیے پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے عمران خان کی پوسٹ پر لکھا کہ ’چرچل کی تقاریر کےکسی مجموعہ میں یہ مبینہ قول نہیں ہے۔ ممکن ہے انہوں نے یہ بات جرمنی اور جاپان کی سرحد پر خان صاحب کی روحانی موجودگی میں کہی ہو۔ عدالتوں کا صحیح کام کرنا ضروری ہے لیکن ڈیم فنڈ جمع کرنے والے کو ہیرو ماننے والوں کا آزاد عدلیہ کا تصور چرچل کی مبینہ سوچ سے ہم آہنگ نہیں‘
چرچل کی تقاریر کےکسی مجموعہ میں یہ مبینہ قول نہیں ہے۔ ممکن ہے انہوں نے یہ بات جرمنی اور جاپان کی سرحد پر خان صاب کی روحونی موجودگی میں کہی ہو۔ عدالتوں کا صحیح کام کرنا ضروری ہے لیکن ڈیم فنڈ جمع کرنے والے کو ہیرو ماننے والوں کا آزاد عدلیہ کا تصور چرچل کی مبینہ سوچ سے ہم آہنگ نہیں https://t.
— Husain Haqqani (@husainhaqqani) May 1, 2025
عظمیٰ نامی ایکس اکاؤنٹ نے ایکس گراک کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’کہتے ہیں بےوقوف اور جھوٹے کا پتہ ہی تب چلتا ہے جب وہ منہ کھولتا ہےخود بند ہیں تو منہ بھی بند ہی رکھیں یوتھیوں کا کچھ تو بھرم رکھ لیں خان صاحب‘
کہتے ہیں بےوقوف اور جھوٹے کا پتہ ہی تب چلتا ہے جب وہ منہ کھولتا ہے
خود بند ہیں تو منہ بھی بند ہی رکھیں
یوتھیوں کا کچھ تو بھرم رکھ لیں خان صاحب https://t.co/HAkcZQvACa pic.twitter.com/IfRLrlXi9L
— ????????????????. (@Uzmaaar) May 1, 2025
مصطفیٰ چوہدری نے اپن پوسٹ میں لکھا کہ ’اور ونسٹن چر سل نے کہا تھا “ وہ عدالتیں کہاں ہیں جو کہتی تھیں گڈ ٹو سی یو”
اور ونسٹن چر سل نے کہا تھا “ وہ عدالتیں کہاں ہیں جو کہتی تھیں گڈ ٹو سی یو” ( یہ بات چرسل نے گردا بناتے ہوے کی تھی) https://t.co/bUwBiBAH02
— Mustafa Chaudhary (@Mustafa_Chdry) April 30, 2025
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل حسین حقانی عمران خان ونسٹن چرچل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل ونسٹن چرچل ونسٹن چرچل انہوں نے لکھا کہ چرچل کی بند ہی
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔