بھارت کے معروف کہانی کار اور نغمہ نگار جاوید اختر نے گزشتہ روز پاکستانی فنکاروں پر بھارت میں پابندی کے حق میں بیان دیا تھا۔

جس پر اداکارہ مشی خان نے جاوید اختر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی سوچ جان کر افسوس ہوا۔

انھوں نے جاوید اختر کو یاد دلایا کہ جب آپ پاکستان آئے تھے تو کتنی عزت دی گئی، بڑے بڑے فنکار آپ کے قدموں میں بیٹھ گئے تھے۔

اداکارہ مشی خان نے کہا کہ آج آپ کی اصلیت سامنے آگئی، آپ سخت دل اور چھوٹی سوچ کے مالک ہیں۔

مشی خان نے کہا کہ پاکستانی فنکاروں کو بھارت میں کام کرنے میں کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے، کوئی پابندی لگاتا ہے تو لگائے۔ ہمیں فرق نہیں پڑتا۔

اداکارہ منشا پاشا نے بھی جواب اختر کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایمانداری کی بات یہ ہے کہ قصور ہمارا ہی ہے۔ ہمیں اپنی عزت نفس کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ جاوید اختر نے ایک انٹرویو میں پاکستانی فنکاروں پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے کبھی بھارتی فنکاروں کو اہمیت نہیں دی حالانکہ نصرت فتح علی خان، غلام علی اور دیگر فنکاروں کو بھارت میں خوب پذیرائی ملی تھی۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستانی فنکاروں جاوید اختر اختر کو کہا کہ

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی