حکومت، آجر اور مزدور تنظیموں کے درمیان مؤثر سہ فریقی مکالمہ کیا جائے، شوکت عزیز صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
اسلام آباد میں یوم مزدور کے موقع پر منعقدہ بین الاقوامی یوم مزدور کانفرنس میں چیئرمین قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت، آجر اور مزدور تنظیموں کے درمیان مؤثر سہ فریقی مکالمہ کیا جائے۔
قومی ادارہ برائے صنعتی تعلقات کے زیر اہتمام بین الاقوامی یوم مزدور کانفرنس سے اپنے خطاب میں جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ لیبر قوانین کی عمل داری کے لیے مؤثرنظام متعارف کرایا جائے، ورکرز کے نمائندوں کے ساتھ کھلی بات چیت اور مشاورت کو فروغ دیاجائے۔
بین الاقوامی یوم مزدور کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ایسی قانون سازی کا کوئی فائدہ نہیں جس میں محنت کشوں کے حقوق کا ذکر نہ ہو۔ انھوں نےکہا کہ محنت کشوں کے مسائل کا ذاتی طور پر مشاہدہ کر رہا ہوں۔
چیئرمین این آئی آر سی جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت، آجر اور مزدور تنظیموں کے درمیان مؤثر سہ فریقی مکالمہ کیاجائے۔
سہ فریقی سوشل ڈائیلاگ پاکستان کےصنعتی مستقبل کی ضمانت ہے، مزدور قوانین پر مکمل عمل درآمد اور قانون سازی میں بہتری کی ضرورت ہے، باہمی مشاورت کے اداروں اور کمیٹیوں کا کردار مضبوط ہونا چاہیے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے اوور سیز پاکستانیز سالک حسین نے کہا وہ ورکرز کے حقوق کے لیے کندھے سے کندھا ملا کر چلیں گے۔
تقریب کے اختتام پر چیئرمین این آئی آر سی شوکت صدیقی نے ملک کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والی مزدور یونینز کے نمائندگان کو شیلڈ پیش کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شوکت عزیز صدیقی کرتے ہوئے یوم مزدور
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔