ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ زخمی افراد کو سی ایم ایچ مری منتقل کردیا گیا ہے اور حادثے کے بعد مری میں امدادی کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں، پروٹوکول میں شامل گاڑی تباہ ہوگئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر امور کشمیر اور گلگت بلتستان امیر مقام مری میں حادثے کا شکار ہوگئے ہیں اور ان کے پروٹوکول میں شامل 5 افراد زخمی ہوگئے ہیں، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزیر امور کشمیر اور گلگت بلتستان امیرمقام کو حادثہ مری کی حدود میں پیش آیا اور پروٹوکول کی گاڑی متاثر ہوئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزیر امیر مقام حادثے میں محفوظ ہیں تاہم دیگر 5 افراد زخمی ہوگئے ہیں، جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ زخمی افراد کو سی ایم ایچ مری منتقل کردیا گیا ہے اور حادثے کے بعد مری میں امدادی کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں، پروٹوکول میں شامل گاڑی تباہ ہوگئی ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ امیر مقام آزاد کشمیر کا دورہ مکمل کرکے اسلام آباد واپس آرہے تھے جبکہ مری پولیس نے بتایا کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزیر

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ