امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ جو ملک بھی ایران سے تیل خریدے گا وہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کا کاروبار نہیں کر سکے گا۔

اپنے ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ جو ملک یا فرد بھی تیل یا پیٹرو کیمیکل ایران سے خریدے گا اسے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑےگا۔

یہ بھی پڑھیں جوہری معاہدہ: ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور مکمل

انہوں نے کہاکہ جو ملک ایران سے تیل کی خریداری کرےگا وہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کا کوئی بھی کاروبار کرنے کا اہل نہیں ہوگا۔ ضروری ہے کہ ایرانی تیل اور پیٹرو کیمیکل کی تمام خریداری بند ہو۔

یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ کے باعث جوہری مذاکرات کے حوالے سے ہفتے کو ہونے والا چوتھا دور منسوخ کردیا گیا ہے۔

عمان کی وزارت خارجہ کے مطابق ایران اور امریکا مذاکرات کے اگلے دور کے لیے ہفتے کو ہونے والی ملاقات منسوخ کردی گئی ہے، نئی تاریخ کا اعلان دونوں ملکوں کی باہمی رضا مندی سے جلد کیا جائےگا۔

یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ماہ سے مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا، جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرکے اس پر عائد کی گئی پابندیوں کو ختم کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں ایران امریکا مذاکرات: فریقین کا جوہری معاہدے کے لیے فریم ورک تیار کرنے پر اتفاق

اس سے قبل ایران امریکا کے حکام کے درمیان ملاقاتوں کے تین ادوار ہوئے تھے، جس میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکی صدر ایرانی تیل پابندیاں جوہری مذاکرات ڈونلڈ ٹرمپ صدر ٹرمپ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ایرانی تیل پابندیاں جوہری مذاکرات ڈونلڈ ٹرمپ وی نیوز کے درمیان امریکا کے ایران سے

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل