چین میں گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران 903 قومی ویٹ لینڈ پارکس قائم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
چین میں گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران 903 قومی ویٹ لینڈ پارکس قائم WhatsAppFacebookTwitter 0 2 May, 2025 سب نیوز
ہانگ ژو(شِنہوا)چین نے گزشتہ 20 برس میں 903 قومی وٹ لینڈ پارک قائم کئے۔
چین کے مشرقی صوبے ژےجیانگ کے شہر ہانگ ژو میں وٹ لینڈ کے تحفظ کے متعلق ایک بین الاقوامی سیمینار کے مطابق ان پارکوں نے 24لاکھ ہیکٹرز وٹ لینڈ کے تحفظ میں مدد کی ہے جو قومی جنگلی حیات کی اہم انواع کے لئے مناسب مسکن فراہم کرتے ہیں۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چین کی جنگلات اور سبزہ زار کی قومی انتظامیہ (این ایف جی اے) کے نائب سربراہ یان ژین نے زور دیا کہ ملک نے طویل عرصے سے وٹ لینڈ کے تحفظ کو ترجیح دی ہے اور اس سلسلے میں مسلسل کوششیں کی ہیں۔
این ایف جی اے کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک چین میں وٹ لینڈ کا مجموعی رقبہ 5کروڑ 63لاکھ50ہزار ہیکٹر ہے۔ ملک میں اس وقت بین الاقوامی اہمیت کے حامل وٹ لینڈز کی تعداد 82 ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔
یان نے کہا کہ حیاتیاتی تحفظ اور بحالی کو بھی مضبوط کیا گیا ہے۔ قومی وٹ لینڈ کے تحفظ کے منصوبے کی بدولت 3لاکھ ہیکٹرز وٹ لینڈ کو بحال کیا گیا ہے۔
یان نے مزید کہا کہ چین نے بین الاقوامی مینگروو سنٹر قائم کیا ہے جو اس شعبے میں عالمی تعاون کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے اور عالمی وٹ لینڈ کے تحفظ کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیلی فوج کے غزہ پر حملے جاری، مزید 40 فلسطینی شہید ایف بی آر کی کارروائیاں، مشہور فیشن برانڈ کی ٹیکس چوری پکڑ لی، 4آوٹ لیٹس سیل آئی ایم ایف کی علاقائی اقتصادی رپورٹ جاری، پاکستان کی معیشت سے متعلق اہم پیشگوئی امریکی معیشت پہلی سہ ماہی میں سکڑ گئی ’’افراتفری کے 100 دن‘‘نے امریکہ کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، عالمی میڈیا چین نے ڈبلیو ٹی او قوانین کو کمزور کرنے پر امریکہ کی مذمت کر دی برکس ممالک طاقتور ممالک کو روکنے کے لیے واضح طور پر کھڑے ہوں، چینی وزیر خارجہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔