جنگ کا امکان نہیں،پہلگام حملہ بھارتی سکیورٹی اداروں کی ناکامی، سابق ’ را ’ چیف امرجیت سنگھ دولت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
بھارت کی خفیہ ایجنسی ’ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ‘ (را) کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دولت نے پہلگام حملے کو بھارتی سیکیورٹی اداروں کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان باقاعدہ جنگ کا کوئی امکان نہیں ہے، بلکہ توقع ہے کہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل ہو جائیں گے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سابق ’را‘ چیف نے واضح کیا کہ اگر بھارت کوئی سرجیکل اسٹرائیک یا بالاکوٹ جیسا اقدام کرنا چاہتا ہے تو ضرور کرے، محدود فوجی کارروائی قابل قبول ہو سکتی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ جنگ کی بات کرنا دراصل جوہری ہتھیاروں کی جنگ کی بات ہے، اور یہ سب محض ڈرانے کے حربے ہیں۔
امرجیت سنگھ نے مزید کہا کہ ہر طرف سے یہی آوازیں آرہی ہیں کہ اب جنگ ہونے والی ہے، لیکن ان کے نزدیک جنگ آخری اور بدترین حل ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلگام حملے میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس حملے کے ذمہ دار دہشت گردوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کو دنیا کے کسی بھی کونے سے ڈھونڈ نکالیں گے اور انہیں ایسی سزا دیں گے جس کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔
بھارتی وزیر اعظم نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ پہلگام حملے کا جواب دینے کے لیے بھارتی مسلح افواج کو طریقہ کار، اہداف اور وقت کے تعین میں مکمل طور پر بااختیار بنایا گیا ہے۔بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سابق سربراہ نے موجودہ پاک بھارت کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالات کو بہتر بنانے کے لیے دیگر راستے بھی موجود ہیں، جیسا کہ بیک چینل مذاکرات۔
اس حوالے سے امرجیت سنگھ نے مزید کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے جھگڑے تو برسوں سے جاری ہیں اور یہ خود ہی اپنے معاملات سنبھال لیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں بات چیت کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ عمل جاری رہتا ہے، اگر دونوں ممالک براہ راست بات نہیں بھی کرنا چاہتے تو سعودی عرب، ایران یا متحدہ عرب امارات جیسے ممالک ثالثی کر سکتے ہیں اور ان کی طرف سے بات چیت کر سکتے ہیں۔
جب امرجیت سنگھ سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے ثبوت بین الاقوامی برادری کو پیش نہیں کیے جانے چاہئیں تاکہ بھارت کا موقف مزید مضبوط ہو سکے، تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ایسا کیا جائے تو یہ ایک اچھا اقدام ہوگا۔
واضح رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے تعاون کی پیشکش کی ہے، پاکستان کے آزادانہ تحقیقات کے مطالبے کی چین نے بھی حمایت کی ہے۔
پہلگام حملے میں پاکستان کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے بارے میں ایک اور سوال کے جواب میں سابق ’را‘ چیف نے کہا کہ جب یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا تو ابتداء میں لشکرِ طیبہ سے منسلک ایک تنظیم، ریزسٹینس فورس، نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی، لیکن بعد میں وہ اس دعوے سے پیچھے ہٹ گئی۔
بھارت اور مصر کا دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کوششیں مضبوط بنانے پر اتفاق
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: امرجیت سنگھ پہلگام حملے پاکستان کے تھا کہ کہا کہ
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔