اسلام آباد ہائیکورٹ کا لاپتہ شہری کے اغوا کا مقدمہ درج کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
اسلام آباد:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 20 مارچ سے لاپتا شہری کے اغوا کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس محمد آصف نے جی ٹین اسلام آباد سے لاپتہ شہری نعیم مظفر کی بازیابی سے متعلق اسکے بھائی وقار احمد کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔
عدالت میں نعیم مظفر کی والدہ کے ہمراہ درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری ایڈووکیٹ پیش ہوئیں جبکہ ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ اور تھانہ رمنا کے پولیس حکام بھی عدالت میں موجود تھے۔
وکیل ایمان مزاری نے مؤقف اپنایا کہ ان کے مؤکل کا بھائی 20 مارچ سے لاپتہ ہے اور اسے گھر سے اٹھائے جانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوٹیج میں ایک ڈالا اور ایک پولیس کی گاڑی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ لاپتہ شہری کو بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد پولیس کو نعیم مظفر کے اغواء کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت جاری کی اور کیس کی مزید سماعت 7 مئی تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔