مظفرآباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 02 مئی ۔2025 )آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ سکول و کالج معمول کے مطابق کھلے ہیں تاہم کچھ تعلیمی ادارے بھارت کی جانب سے کسی ممکنہ حملے کے پیش نظر بند کردیے گئے ہیں جبکہ دیگر کے بارے میں مشاورت چل رہی ہے.

(جاری ہے)

حکومتی ترجمان پیر مظہر سعید شاہ نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا کہ لوگ اپنے معمولات زندگی میں مصروف ہیں کسی کو بھی انڈیا کی جارحیت کا کوئی خوف نہیں ہے تاہم لوگ کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے بھرپور تیار بھی ہیں ان کا کہنا تھا کہ کچھ اداروں کو انڈیا کی جانب سے کسی ممکنہ حملے کے پیش نظر بند کیا گیا ہے جبکہ باقی کے بارے میں مشاورت چل رہی ہے کہ ان کو بند کیا جائے کہ نہیں ان کے بارے میں جلد فیصلہ کرلیا جائے گا.

مظہر سعید شاہ کا کہنا تھا کہ سیاحوں کو بھی اسی خدشے کے پیش نظر کچھ دن کے لیے کشمیر آنے سے روکا گیا ہے حکومتی ترجمان نے بتایا کہ 27 اور 28 اپریل کو ساڑھے 1250 سیاح وادی نیلم میں داخل ہوئے تھے یہ ایک بڑی تعداد ہے جو ثابت کرتی ہے کہ کسی کو کوئی خوف نہیں ہے تاہم انڈیا کی جانب سے دھمکیوں کے بعد احتیاط کے طور پر سیاحوں کو روکا گیا ہے. انہوں نے بتایا کہ جو سیاح اس وقت پہلے سے سیاحتی مقامات پر ہیں ان کو نکالا نہیں گیا ہے حکومتی ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر مکمل طور پر پر امن ہیں پہل نہیں کی جائے گی لیکن اگر انڈیا نے کوئی غلطی کی تو پھر کشمیر کے لوگ اور کشمیر کی حکومت اپنے دفاعی اداروں کے ساتھ مل کراپنا دفاع کرے گی.                                                      

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے پیش نظر گیا ہے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت