پاکستانی میڈیا اور فنکاروں پر پہلگام حملے کے بعد بھارت کی جانب سے پابندی عائد کیے جانے کے بعد زیادہ تر پاکستانی مشہور شخصیات بھارت کے اس فیصلے کا مذاق اُڑاتی نظر آئیں اور اس پر تنقید کی۔ جس میں حنا الطاف، عمران عباس، یاسر حسین، مشی خان، اعجاز اسلم اور دیگر کئی فنکار شامل ہیں۔

جہاں ایک طرف فنکاروں نے اس فیصلے پر کھل کر بات کی اور انڈیا کو جواب دیا وہیں پاکستانی یو ٹیوبرز اس معاملے پر خاموش نظر آئے جب صحافیوں نے ان سے سوال کیا کہ پاک بھارت صورتحال پر کیا کہیں گے تو انہوں نے چپ سادھ لی اور اس پر جواب دینے سے گریز کیا۔

یہ بھی پڑھیں: انڈیا میں پاکستانی ڈراموں کی بندش پر صارفین کے دلچسپ تبصرے

پاکستان کی معروف ٹک ٹاکرجنت مرزا کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ  بیرون ملک ایک ایونٹ میں شریک تھیں جہاں ایک صحافی نے اُن سے پاک بھارت تعلقات پر ان کے خیالات پوچھے تو انہوں نے اس پر خاموشی اختیار کی اور اشارے سے بتایا کہ وہ اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتیں۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مقدس فاروق اعوان لکھتی ہیں کہ پاکستان کی سب سے بڑی سوشل میڈیا اسٹار جنت مرزا بھارت کے خلاف ایک لفظ نہ بول پائیں تاکہ وہاں ان کا اکاؤنٹ بین نہ ہو جائے۔

پاکستان کی سب سے بڑی سوشل میڈیا سٹار جنت مرزا بھارت کے خلاف ایک لفظ نہ بول پائی تاکہ اکاؤنٹ وہاں بین نہ ہو جائے pic.

twitter.com/Fir1egbmMa

— Muqadas Farooq Awan (@muqadasawann) May 1, 2025

دوسری طرف معروف یو ٹیوبر ڈکی بھائی جو اپنے کسی کیس میں عدالت میں پیش ہوئے تو صحافی نے اس سے سوال کیا کہ سوشل میڈیا انفلیوئنسر ہونے کے ناطے پاکستان اور بھارت کشیدگی پر کیا کہنا چاہیں گے جس پر انہوں نے کہا کہ میرا ابھی ذاتی مسئلہ چل رہا ہے اس کو حل کرنے کے بعد اس پر آئیں گے۔

انڈیا کے خلاف بالکل بات نہیں کرنی، مما جانی نے منع کیا ہوا ہے،، کہیں انڈیا میں اکاؤنٹ بلاک ہی نہ ہوجائے…
یہ ہیں پاکستانی انپھلونسر.. ان چودر مادروں کا ہر فورم پر بائیکاٹ ہونا چاہئے https://t.co/eW43moiBgW pic.twitter.com/bYHJRFW5vI

— Ather Salem® (@AthSa01) May 2, 2025

جنت مرزا اور ڈکی بھائی کی اس خاموشی پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ۔ صارفین کا کہنا تھا کہ یو ٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز بھارتی فالوورز کو بچانے کے لیے اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتے۔

شاہد اسلم نے ٹک ٹاکرز کے اس رویے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پیسہ بڑی چیز ہے‘۔

پیسہ بڑی چیز ہے

— Shahid Aslam (@ShahidAslam87) May 1, 2025

ایک صارف کا کہنا تھا کہ ان سب انفلیوئنسرز کا بائیکاٹ ہونا چاہیے۔

ان سب کا بائیکاٹ ہونا چاہیۓ۔

— Nazeeha S (@nazeeha_s) May 2, 2025

جہاں کئی صارفین ان پر تنقید کرتے نظرآئے وہیں چند صارفین کا کہنا تھا کہ انہوں نے خاموشی اختیار کر کے ٹھیک کام کیا ہے۔ خرم اقبال لکھتے ہیں کہ ہر انسان کی اپنی سوچ ہوتی ہے وہ بولے یا چُپ رہے، یہ اُس کی چوائس ہے، سب سے بڑی مثال میاں نوازشریف ہیں وہ 10 دن سے خاموش ہیں، جنت مرزا سے سوال یہ ہو رہا ہے کہ پاک انڈیا ٹینشن سے کیا آپ بھی متاثر ہوتے ہیں، اُس نے چپ رہنا بہتر سمجھا، اب کیا وہ منہ سے آگ برساتی۔۔

ہر انسان کی اپنی سوچ ہوتی ہے، وہ بولے یا چُپ رہے، یہ اُس کی چوائس ہے، سب سے بڑی مثال میاں نوازشریف ہیں، وہ 10 دن سے خاموش ہیں، جنت مرزا سے سوال یہ ہو رہا ہے کہ پاک انڈیا ٹینشن سے کیا آپ بھی متاثر ہوتے ہیں، اُس نے چپ رہنا بہتر سمجھا، اب کیا وہ منہ سے آگ برساتی۔۔!! https://t.co/LSq6vPcJYV

— Khurram Iqbal (@khurram143) May 2, 2025

کئی صارفین کا کہنا تھا کہ ایسے سوشل میڈیا انفلیوئنسرز کا ہر پلیٹ فارم سے بائیکاٹ کرنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان بھارت جنگ جنت مرزا ڈکی بھائی لندن

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان بھارت جنگ ڈکی بھائی

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل