حریت ترجمان نے خبردار کیا کہ 1947ء کے بعد سے، بھارت نے مسلسل علاقائی امن کو نقصان پہنچایا ہے اور بھارت خطے میں قیام امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا کی موجودہ کشیدہ صورتحال کی بڑی وجہ حل طلب دیرینہ تنازعہ کشمیر ہے اور بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز اور پاکستان کے خلاف جارحانہ بیان بازی سے خطے کی پہلے سے غیر مستحکم صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حریت ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ مودی حکومت کے جنگی جنون نے جنوبی ایشیا کو ایک بار پھر بڑی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 1947ء کے بعد سے، بھارت نے مسلسل علاقائی امن کو نقصان پہنچایا ہے اور بھارت خطے میں قیام امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے علاقائی امن کو لاحق خطرات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ بھارت کئی دہائیوں سے تنازعہ کشمیر کے پرامن حل میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔

عبدالرشید منہاس نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی امن کے لیے مسلسل کوششوں کی حمایت کی ہے اور جنوبی ایشیائی خطے کو غیر مستحکم کرنے کے بھارت کے کردار کے بارے میں دنیا کو بارہا خبردار کیا ہے اور عالمی برادری پر واضح کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل پر ہے۔ حریت ترجمان نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ مودی کے جنگی جنون کو روکیں اس سے پہلے کہ کوئی غلط اقدام وسیع تر تنازعہ کو جنم دے کیونکہ مودی کی زیرقیادت بھارت کی علاقائی بالادستی کی کوششیں اور جنگی جنون سے علاقائی امن و استحکام کو بڑا خطرہ لاحق ہے۔

ادھر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی کی سفاکانہ مہم تیزی سے جاری ہے۔ بھارتی قاببض فورسز نے سرینگر میں جموں و کشمیر ینگ مینز لیگ کے صوبائی صدر اور پارٹی ترجمان شیخ معراج اور جاوید احمد چھانگا کی رہائش گاہوں پر چھاپہ مارا۔قابض اہلکاروں نے وہاں توڑ پھوڑ کی اور لوگوں کو ہراساں کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علاقائی امن جنوبی ایشیا جنگی جنون ہے اور

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے