اگر امریکہ بات چیت کرنا چاہتا ہے تو اسے خلوص کا مظاہرہ کرنا چاہئے، چینی وزارت تجارت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
اگر امریکہ بات چیت کرنا چاہتا ہے تو اسے خلوص کا مظاہرہ کرنا چاہئے، چینی وزارت تجارت WhatsAppFacebookTwitter 0 2 May, 2025 سب نیوز
بیجنگ :چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے کہا ہے کہ چین نے دیکھا ہے کہ اعلی امریکی حکام نے بار ہا کہا ہے کہ وہ ٹیرف کے معاملے پر چین کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ نے حال ہی میں چین کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے متعدد مواقع پر متعلقہ فریقوں کے ذریعے چین کو پیغام پہنچانے میں پہل کی ہے۔ جس کا چین جائزہ لے رہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ چین کا موقف ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔اگر وہ لڑنا چاہتا ہے ،تو چین آخری لمحے تک لڑے گا؛ اگربات کرنا چاہتا ہے،تو چین کا دروازہ کھلا ہے.
ترجمان نے کہا کہ ہم نے نوٹ کیا ہے کہ امریکہ حال ہی میں ٹیرف اقدامات کو ایڈجسٹ کرنے کا پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین اس بات پر زور دینا چاہتا ہے کہ اگر امریکہ کسی بھی ممکنہ مذاکرات یا بات چیت میں اپنے غلط یکطرفہ محصولات کے اقدامات کو درست نہیں کرتا ہے تو اس سے ظاہر ہوگا کہ امریکی فریق مکمل طور پر غیر سنجیدہ ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان باہمی اعتماد کو مزید نقصان پہنچے گا۔ کہنا کچھ اور کرنا کچھ ، یہاں تک کہ مذاکرات کی آڑ میں جبر اور بلیک میلنگ کی کوشش کرنا چین کے ساتھ تعلقات نمٹنے کا طریقہ نہیں ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایک سو نوے ملین پائونڈ کیس:عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست سماعت کےلئے مقرر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان؛ انڈیکس میں 2900 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ چین میں گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران 903 قومی ویٹ لینڈ پارکس قائم ایف بی آر کی کارروائیاں، مشہور فیشن برانڈ کی ٹیکس چوری پکڑ لی، 4آوٹ لیٹس سیل آئی ایم ایف کی علاقائی اقتصادی رپورٹ جاری، پاکستان کی معیشت سے متعلق اہم پیشگوئی امریکی معیشت پہلی سہ ماہی میں سکڑ گئی ’’افراتفری کے 100 دن‘‘نے امریکہ کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، عالمی میڈیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اگر امریکہ چاہتا ہے بات چیت
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں