نقل کی روک تھام کےلیے انتظامات کر رکھے ہیں: چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی غلام حسین---فائل فوٹو
چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی غلام حسین سوہو کا کہنا ہے کہ نقل مافیا کی روک تھام کے لیے انتظامات کر رکھے ہیں۔
کراچی میں انٹر امتحانات سے متعلق پریس کانفرنس میں چیئرمین غلام حسین نے کہا کہ 5 مئی سے انٹر بورڈ کے امتحانات شروع ہو رہے ہیں، امتحانات میں 1 لاکھ 26 ہزار طلباء شریک ہوں گے۔
انٹرمیڈیٹ گیارہویں اور بارہویں جماعت کے سائنس پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، سائنس جنرل اور ہوم اکنامکس گروپس بشمول امپروومنٹ آف گریڈ/ڈویژن، ایڈیشنل سبجیکٹس، بینیفٹ کیسز، شارٹ سبجیکٹس، ٹی پی (بارہ پرچے) اور اسپیشل چانس کے سالانہ امتحانات برائے 2025ء کے پہلے مرحلے کا آغاز پیر 5 مئی سے ہو رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فرسٹ ایئر میں 52 ہزار طلباء پری انجیئرنگ کے ہیں اور 39 ہزار طلباء پری میڈیکل کے ہیں جبکہ 34 ہزار طلباء سائنس جنرل گروپ کے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ امتحانات میں لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کےلیے کےالیکٹرک کو بھی خط لکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ہزار طلباء
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔