پاک بھارت کشیدگی : کراچی اور لاہور کی مخصوص فضائی حدود جزوی طور پر بند
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
ویب ڈیسک: پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث کراچی اور لاہور کی مخصوص فضائی حدود کو ایک ماہ کے لیے جزوی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ ہو گئے ہیں، جس کے پیش نظر پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (PCAA) نے نوٹس ٹو ایئرمین (NOTAM) جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ نوٹم کے مطابق کراچی اور لاہور فلائٹ انفارمیشن ریجن (FIR) کی مخصوص فضائی حدود یکم مئی سے 31 مئی تک ہر روز صبح 4 بجے سے صبح 8 بجے تک بند رہے گی۔
دبئی پاورلفٹنگ اینڈ باڈی بلڈنگ انٹرنیشنل چیمپئن شپ: پاکستان نے گولڈ میڈل حاصل کرلیا
حکام کے مطابق فضائی حدود کی بندش سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر کی گئی ہے تاہم کمرشل پروازیں متبادل روٹس کے ذریعے جاری رہیں گی اور فلائٹ آپریشن پر اس بندش کے زیادہ اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام صرف احتیاطی تدابیر کے طور پر اٹھایا گیا ہے تاکہ قومی فضائی حدود کو ہر ممکن سیکیورٹی فراہم کی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک