گزشتہ ماہ پیاز، انڈے، ٹماٹر، چکن اور آٹا سستا، گوشت اور مصالحے مہنگے ہوئے، ادارہ شماریات
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
وفاقی ادارہ برائے شماریات کے مطابق گزشتہ ماہ پیاز 26 فیصد، انڈے 20.36 فیصد سستے ہوئے، جبکہ ٹماٹر 15.26 فیصد، گندم 12.44 فیصد، آٹا 10 فیصد تک سستا ہوا۔
وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق اپریل میں چکن 6.24 فیصد، آلو 5.10 فیصد اور بیسن 3.91 فیصد تک سستا ہوا۔
گزشتہ ماہ گندم کی مصنوعات 3 فیصد، دال چنا 2.68 فیصد، چینی 1.
وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق گوشت 1.50 فیصد اور مصالحے 1.41 فیصد تک مہنگے ہوئے۔ شہد، ریڈی میڈ فوڈ، مشروبات اور دودھ کی مصنوعات بھی مہنگی ہوئی۔
وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق چاول، خشک میوے، خشک دودھ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔
ادارہ شماریات کے مطابق ایک ماہ میں تعلیم 4.11 فیصد، ڈاکٹر کی فیس 2.42 فیصد تک بڑھ گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ادارہ شماریات کے مطابق وفاقی ادارہ فیصد تک
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔