پاکستان کی مسلح افواج اور عوام دفاع وطن کے لیے متحد، آرمی چیف کا کور کمانڈر کانفرنس سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج دفاع وطن کے لیے اپنی عوام کے ساتھ متحد ہو کر کھڑی ہیں۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نشان امتیاز(ملٹری) کی زیرِ صدارت خصوصی کور کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں خطے کی موجودہ صورتحال کا جامع جائزہ لیا گیا، بالخصوص پاک بھارت کشیدگی اور علاقائی سلامتی پر غور کیا گیا۔
فورم نے پاکستان کی مسلح افواج کی کسی بھی جارحیت یا مہم جوئی کے خلاف ملک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ آرمی چیف نے مسلح افواج کی غیر متزلزل پیشہ وارانہ مہارت، ثابت قدم حوصلے اور آپریشنل تیاریوں کو سراہا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج دفاع وطن کے لیے اپنی عوام کے ساتھ متحد ہو کر کھڑی ہیں۔ انہوں نے تمام محاذوں پر چوکنا رہنے اور فعال تیاریوں کی اہمیت پر زور دیا۔
فورم نے بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم پر شدید اظہار تشویش کیا۔ بالخصوص پہلگام واقعے کے بعد بھارتی افواج لائن آف کنٹرول کے معصوم شہریوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔
فورم نے تشویش ظاہر کی کہ بھارتی فوج کی غیر انسانی اور بلا اشتعال کارروائیاں علاقائی کشیدگی کو بڑھاتی ہیں، جس کا مؤثر اور مناسب جواب دیا جائے گا۔
کانفرنس کے شرکاء نے بھارت کی جانب سے سیاسی اور فوجی مقاصد کے حصول کے لیے مستقل طور پر گھڑے جانے والے خود ساختہ بحرانوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
شرکا کانفرنس کا موقف تھا کہ اندرونی انتظامی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے، بھارت پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کے تحت ان اندرونی مسائل کو ہمیشہ سے بیرونی رنگ دیتا رہا ہے۔ اس طرح کے واقعات سے بھارت یکطرفہ چالوں سےStatus quo کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
جیسا کہ 2019 میں دیکھا گیا جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370کی منسوخی کے ذریعے Status quoکو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کے لیے پلوامہ کا ڈرامہ رچایا۔
شرکا کانفرنس کا موقف ہے کہ پہلگام کے حالیہ واقعہ کا مقصد پاکستان کی توجہ مغربی سرحدوں اور اقتصادی بحالی کے لیے جاری کوششوں سے ہٹانا ہے کیونکہ ان 2 عوامل میں پاکستان فیصلہ کن اور پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہے۔ بھارت کو ان مذموم ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنی دہشتگرد پراکسیوں کو فعال کرنے میں ناکامی اٹھانی پڑے گی۔
شرکاء فورم نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسی تناظر میں بھارت پہلگام واقعہ کی آڑ میں سندھ طاس معاہدے کو نقصان پہنچا کر پاکستان کے قانونی اور بنیادی آبی حقوق کو غضب کرنے کے درپے ہے۔ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اس سے نہ صرف پاکستان کی 24 کروڑ آبادی متاثر ہو گی بلکہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام میں اضافہ ہوگا۔
شرکاء کانفرنس نے پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں براہ راست بھارتی فوج اور انٹیلی جنس کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ
ریاستی سرپرستی میں ہونے والے یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور ناقابلِ قبول ہے۔
امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے فورم نے واضح کیا کہ جنگ مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کا یقینی اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے عوام کی امنگوں کا ہر قیمت پر احترام کیا جائے گا، انشاء اللہ۔
شرکاء کانفرنس نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان کے امن اور ترقی کا راستہ کسی بھی بلاواسطہ یا پراکسیز کے ذریعے پھیلائی جانے والی دہشتگردی، جبر یا جارحیت سے نہیں روکا جاسکتا۔ بھارت کی جانب سے جان بوجھ کر عدم استحکام کی کوششوں کو قومی عزم اور واضح اقدامات سے شکست دی جائے گی۔
کانفرنس کے اختتام پر آرمی چیف نے ملک کے دفاع کے لیے کی جانے والی آپریشنل تیاریوں اور مورال پر تمام فارمیشنز اور اسٹرٹیجک فورسز پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان کی مسلح افواج کہ پاکستان پاکستان کے ا رمی چیف کا اظہار فورم نے کی جانب کے لیے
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔