خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیےتمام برادر ممالک ہندوستان پر دباؤ ڈالیں، وزیر اعظم کی سعودی سفیر سے گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نےملاقات کی ہے، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف کی برطانوی وزیراعظم سے ملاقات، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق
وزیراعظم شہباز شریف نے حرمین شریفین کے متولی شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز السعود کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے سعودی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ مضبوط یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔
The Ambassador of the Kingdom of Saudi Arabia to Pakistan, H.
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) May 2, 2025
پہلگام واقعے کے بعد جنوبی ایشیا میں امن و امان کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کا واضح موقف بیان کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کی تمام شکلوں کی ہمیشہ مذمت کی ہے اور گزشتہ برسوں میں انسداد دہشتگردی کی کوششوں میں بے مثال قربانیاں دی ہیں، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوئی ہیں۔
وزیراعظم نے بغیر کسی ثبوت کے پہلگام واقعے سے پاکستان کو جوڑنے کے بے بنیاد بھارتی الزامات کو سختی سے مسترد کیا اور اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ
سعودی عرب سمیت دوست ممالک کے تعاون سے گزشتہ پندرہ ماہ کی انتھک محنت سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد کو مستحکم کرنے پر اپنی حکومت کی مکمل توجہ کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی ان کامیابیوں کو خطرے میں ڈالنے اور ملک کو اقتصادی ترقی کی راہ سے ہٹانے کی بھارتی کوششیں ناقابل فہم ہیں۔
انہوں نے سعودی عرب سمیت تمام برادر ممالک پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہندوستان پر دباؤ ڈالیں، وزیراعظم نے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے پاکستان کی دیرینہ خواہش کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کے صدر سے ملاقات، اہم معاہدوں پر دستخط
سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے اس اہم معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ سعودی عرب خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news سعودی سفیر شہباز شریف نواف بن سعید المالکی وزیراعظم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سعودی سفیر شہباز شریف نواف بن سعید المالکی شہباز شریف کے لیے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔