اپوزیشن کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، آل پارٹیز کانفرنس اختتام پذیررہنمائوں کی پریس کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
اپوزیشن کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، آل پارٹیز کانفرنس اختتام پذیررہنمائوں کی پریس کانفرنس WhatsAppFacebookTwitter 0 1 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )تحریک تحفظ آئین پاکستان کے تحت آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ملک میں اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے، ملک کو چیلنجز سے نکالنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کے تحت دو روزہ آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر اپوزیشن رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے دیگر رہنماں کے ہمراہ اے پی سی کا مشترکہ اعلامیہ پڑھتے ہوئے کہا کہ ملک میں اپوزیشن کو دیوار سے لگانے اور ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ملک کو چیلنجز سے نکالنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے مقامی ہوٹل میں آل پارٹیز کانفرنس منسوخ کرائی، مشکلات کے باوجود تحریک تحفظ آئین پاکستان کے تحت اے پی سی کا انعقاد کیا، اے پی سی کے شرکا اسلام آباد انتظامیہ کی مذمت کرتے ہیں۔مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ اے پی سی میں آئینی ،سیاسی اور معاشی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیاگیا، ملک میں اپوزیشن کیلئے کوئی جگہ حاصل کرنا مشکل بنادیا گیا ہے، یہ اتحاد ملک میں سیاسی انتقام کی مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی چئیرمین پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو جیل میں رکھنے کی مذمت کرتے ہیں، بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کیخلاف کیسز کو جلد سنا جائے۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ آج ملک میں کاروباری طبقہ سرمایہ باہر لے جارہا ہے، ملک میں بیروزگاری کی شرح 22 فیصد تک پہنچ چکی ہے، تنخواہ دار طبقہ مشکلات میں ہے غربت کی شرح میں اضافہ ہوچکا ہے۔ مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ ملک میں45 فیصد سے زائد لوگ سطح غربت سے نیچے چلے گئے۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ چیف جسٹس کا عہدہ اب صرف نمائشی رہ گیا ہے، اسلام آبادہائیکورٹ کے جن چھ ججوں نے خط لکھا وہ پاکستان کے ہیرو ہیں، ہم ان ججوں کے موقف کی تائید کرتے ہیں۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ 2024کے الیکشن کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں، آزاد وخود مختار الیکشن بے حد ناگزیر ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان کے دونوں بیٹے کب پاکستان آئیں گے؟ علیمہ خان نے بتا دیا عمران خان کے دونوں بیٹے کب پاکستان آئیں گے؟ علیمہ خان نے بتا دیا کراچی: مسجد کے باہر فائرنگ، سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام جاں بحق سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کو عہدے سے ہٹانے کی سزا معطل بھارت خود کو ایک ذمہ دارعالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے میں ناکام رہا، امریکی وزیر خزانہ فیلڈ مارشل عاصم منیر مسلم دنیا کے سپہ سالاروں کی سربراہی کریں، جماعت اسلامی اسلام آباد کے بعد قصور سے بھی کئی من گدھے کا گوشت برآمدCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی کوشش کی جارہی ہے آل پارٹیز کانفرنس اپوزیشن کو
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس