چیٹ جی پی ٹی کی اہم اپ ڈیٹ لوگوں کی شکایات کے بعد واپس
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی کے لیے جاری کی گئی اپ ڈیٹ واپس لے لی۔
کمپنی کے سی ای او سیم آلٹمن کے مطابق جاری کی گئی اپ ڈیٹ جس کی وجہ سے اے آئی چیٹ بوٹ کا رویہ ’خوش آمدی‘ ہوگیا تھا، کو واپس لے لیا ہے۔
چیٹ جی پی ٹی صارفین کے مطابق جی پی ٹی-4 او (چیٹ بوٹ کا تازی ترین ورژن) اب ڈیٹ کے بعد سے ضرورت سے زیادہ صارفین کی تائید کرنے لگ گیا تھا اور صارفین کی ان مواقع پر بھی تعریف کر رہا تھا جہاں ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
گزشتہ اتوار کو سیم آلٹمن نے اپ ڈیٹ کے سبب پیش آنے والے مسائل کا اعتراف کیا تھا۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر انہوں نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ جی پی ٹی-4او میں کی گئی گزشتہ اپ ڈیٹس نے چیٹ بوٹ کو کافی خوشامدی بنا دیا ہے۔ ہم اس مسئلے پر کام کر رہے ہیں۔ کچھ آج (یعنی 27 اپریل) اور کچھ اس ہفتے میں دور ہوجائیں گے۔
منگل کے روز اوپن اے آئی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ گزشتہ ہفتے پیش کی گئی اپ ڈیٹ کو واپس لے لیا گیا ہے اور اب صارفین چیٹ جی پی ٹی کا پرانا ورژن استعمال کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی کی گئی اپ ڈیٹ
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔