واہگہ بارڈر کے راستے مزید 26 پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے، تعداد 960 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
لاہور کے واہگہ بارڈر کے راستے مزید 26 پاکستانی شہری بھارت سے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ اب تک پاکستان واپس آنے والوں کی مجموعی تعداد 960 ہو گئی ہے۔ دوسری جانب واہگہ بارڈر پر سامان سے لدے افغانستان کے 150 ٹرک سرحد پار جانے کے لیے بھارتی اجازت کے منتظر ہیں۔
پہلگام میں بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے شہریوں کو 30 اپریل تک اپنے وطن واپس جانے کی ہدایت کی تھی۔ آج خصوصی اجازت کے بعد 26 پاکستانی شہری اٹاری واہگہ بارڈر کے راستے بھارت سے وطن واپس پہنچے ہیں۔ اب تک 960 پاکستانی وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ جبکہ ایک ہزار 606 بھارتی شہری اپنے ملک واپس گئے ہیں۔
وزیراعظم نے پہلگام واقعے سے متعلق بھارت کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کردیاشہباز شریف نے پہلگام واقعے کے بعد جنوبی ایشیا میں امن و امان کی صورتحال پر پاکستان کے نکتہ نظر سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، پاکستان خود دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے۔
بدھ کے روز اٹاری بارڈر پر تین پاکستانی سفارت کاروں کو بھارتی امیگریشن حکام نے 24 گھنٹے سے زیادہ انتظار کروانے کے بعد سرحد پار کرنے کی اجازت دی تھی۔
دوسری جانب افغان سفارت خانے کی درخواست پر پاکستانی وزارت خارجہ نے سامان سے لدے افغانستان کے 150 ٹرکوں کو واہگہ بارڈر عبور کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ واہگہ بارڈر پر کھڑے یہ افغان ٹرک سرحد پار کرنے کے لیے بھارت کی جانب سے اجازت ملنے کے منتظر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: واہگہ بارڈر وطن واپس کے بعد
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔