وی ایکسکلوسیو: جنگ ہوئی تو چین پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہوگا، مشاہد حسین سید
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
سابق وفاقی وزیر اور بین الاقوامی امور کے ماہر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کی صورت چین پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہوگا، کیونکہ چینی خارجہ پالیسی، علاقائی حکمت عملی اور چینی اسٹریٹجی میں پاکستان کا دفاع ریڈ لائن میں شامل ہے۔
وی نیوز ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہاکہ چین بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا ترجمان ہے اور پاکستان بھی چین کا سچا دوست ہے۔
یہ بھی پڑھیں بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، صدر اور وزیراعظم کی ملاقات کا اعلامیہ جاری
انہوں نے کہاکہ پاکستان انڈیا کشیدگی میں دنیا پاکستان کے مؤقف کی تائید کررہی ہے، کیوں کہ پاکستان حق پر کھڑا ہے۔ اس وقت دنیا کی 3 بڑی طاقتیں امریکا، چین اور روس پاکستان کے ساتھ ہیں۔
سابق وفاقی وزیر نے کہاکہ پاکستان انڈیا جنگ ہوتی نظر نہیں آ رہی، تاہم اگر جنگ ہوئی تو افواج پاکستان سمیت حکومت اور قوم مکمل تیار ہیں۔
بھارتی معیشت جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتیانہوں نے کہاکہ جنگ اس لیے ہوتی نظر نہیں آرہی، کیوںکہ دشمن ملک بھارت پاکستان کی صلاحیت کو جانتا ہے، دوسرا یہ کہ انڈیا کو جنگ کے لیے امریکا سے این او سی بھی نہیں ملا، تیسرا یہ کہ انڈین معیشت جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی، ماضی میں بھی جنگی حالات کے باعث غیرملکی سرمایہ کار واپس جارہے تھے۔
مشاہد حسین سید نے کہاکہ انٹرنشنل میڈیا پاکستان کی حقانیت بیان کررہا ہے، بلوم برگ اور نیو یارک ٹائمز نے کہا ہے کہ انڈیا الزامات پر ثبوت نہیں دے سکا۔ انڈین انٹیلیجنس کی بریفنگ میں خود یہ بات تسلیم کی گئی کہ پہلگام واقعہ بھارتی سیکیورٹی کی ناکامی ہے۔
انہوں نے کہاکہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے موقع پر پاکستان میں بڑے زبردست اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا۔ ہماری حکومت، اپوزیشن، فوج اور عوام مکمل اتفاق و اتحاد کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہیں۔
بھارتی عوام مودی سرکار کے اقدامات سے خوش نہیںمشاہد حسین سید نے کہاکہ ایک انڈین ممبر آف پارلیمنٹ نے اسمبلی میں کہا ہے کہ ہر بات کا الزام پاکستان پر لگانا مناسب نہیں، بھارتی عوام مودی سرکار کے اقدامات سے خوش نہیں، عوام کی جانب سے حکومت کی مخالفت میں اضافہ ہورہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ مودی ہندوتوا کے نظریے پر چل رہا ہے، بھارتی وزیراعظم نے قائداعظم کا دو قومی نظریہ کو سچ ثابت کردیا، انڈیا میں درحقیقت آر ایس ایس کی حکومت ہے، جو شدت پسند لوگ ہیں۔
مشاہد حسین سید نے کہاکہ پہلگام واقعہ بھارت کا پری پلان اقدام تھا، جس کا ثبوت یہ ہے کہ واقعہ کے 5 منٹ بعد ہی پاکستان پر الزام لگا دیا گیا۔
پاکستانی قوم نے تمام اختلافات بھلا کر اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیامشاہد حسین سید نے کہاکہ 1998 میں پاکستان نے 5 انڈین ایٹمی دھماکوں کے مقابلے میں 6 ایٹمی دھماکے کرکے دھاک بٹھا دی۔
انہوں نے کہاکہ 1998 ہو یا آج، پاکستانی قوم نے تمام تر اختلافات بھول کر اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا، پاکستانی قوم دلیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں ہم تیار ہیں، آزمانا نہیں، ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف
مشاہد حسین سید نے مزید کہاکہ انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کی ہمت، صلاحیت اور اسٹریٹجی بہت شاندار ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا پاک بھارت جنگ پاک بھارت کشیدگی پاک فوج چین دہشتگردی عالمی طاقتیں قوم کا اتحاد ماہر بین الاقوامی امور مشاہد حسین سید وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا پاک بھارت جنگ پاک بھارت کشیدگی پاک فوج چین دہشتگردی عالمی طاقتیں قوم کا اتحاد ماہر بین الاقوامی امور مشاہد حسین سید وی نیوز مشاہد حسین سید نے کہاکہ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے کہ پاکستان کے ساتھ
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔