سابق وفاقی وزیر اور بین الاقوامی امور کے ماہر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کی صورت چین پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہوگا، کیونکہ چینی خارجہ پالیسی، علاقائی حکمت عملی اور چینی اسٹریٹجی میں پاکستان کا دفاع ریڈ لائن میں شامل ہے۔

وی نیوز ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہاکہ چین بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا ترجمان ہے اور پاکستان بھی چین کا سچا دوست ہے۔

یہ بھی پڑھیں بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، صدر اور وزیراعظم کی ملاقات کا اعلامیہ جاری

انہوں نے کہاکہ پاکستان انڈیا کشیدگی میں دنیا پاکستان کے مؤقف کی تائید کررہی ہے، کیوں کہ پاکستان حق پر کھڑا ہے۔ اس وقت دنیا کی 3 بڑی طاقتیں امریکا، چین اور روس پاکستان کے ساتھ ہیں۔

سابق وفاقی وزیر نے کہاکہ پاکستان انڈیا جنگ ہوتی نظر نہیں آ رہی، تاہم اگر جنگ ہوئی تو افواج پاکستان سمیت حکومت اور قوم مکمل تیار ہیں۔

بھارتی معیشت جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی

انہوں نے کہاکہ جنگ اس لیے ہوتی نظر نہیں آرہی، کیوںکہ دشمن ملک بھارت پاکستان کی صلاحیت کو جانتا ہے، دوسرا یہ کہ انڈیا کو جنگ کے لیے امریکا سے این او سی بھی نہیں ملا، تیسرا یہ کہ انڈین معیشت جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی، ماضی میں بھی جنگی حالات کے باعث غیرملکی سرمایہ کار واپس جارہے تھے۔

مشاہد حسین سید نے کہاکہ انٹرنشنل میڈیا پاکستان کی حقانیت بیان کررہا ہے، بلوم برگ اور نیو یارک ٹائمز نے کہا ہے کہ انڈیا الزامات پر ثبوت نہیں دے سکا۔ انڈین انٹیلیجنس کی بریفنگ میں خود یہ بات تسلیم کی گئی کہ پہلگام واقعہ بھارتی سیکیورٹی کی ناکامی ہے۔

انہوں نے کہاکہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے موقع پر پاکستان میں بڑے زبردست اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا۔ ہماری حکومت، اپوزیشن، فوج اور عوام مکمل اتفاق و اتحاد کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہیں۔

بھارتی عوام مودی سرکار کے اقدامات سے خوش نہیں

مشاہد حسین سید نے کہاکہ ایک انڈین ممبر آف پارلیمنٹ نے اسمبلی میں کہا ہے کہ ہر بات کا الزام پاکستان پر لگانا مناسب نہیں، بھارتی عوام مودی سرکار کے اقدامات سے خوش نہیں، عوام کی جانب سے حکومت کی مخالفت میں اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ مودی ہندوتوا کے نظریے پر چل رہا ہے، بھارتی وزیراعظم نے قائداعظم کا دو قومی نظریہ کو سچ ثابت کردیا، انڈیا میں درحقیقت آر ایس ایس کی حکومت ہے، جو شدت پسند لوگ ہیں۔

مشاہد حسین سید نے کہاکہ پہلگام واقعہ بھارت کا پری پلان اقدام تھا، جس کا ثبوت یہ ہے کہ واقعہ کے 5 منٹ بعد ہی پاکستان پر الزام لگا دیا گیا۔

پاکستانی قوم نے تمام اختلافات بھلا کر اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا

مشاہد حسین سید نے کہاکہ 1998 میں پاکستان نے 5 انڈین ایٹمی دھماکوں کے مقابلے میں 6 ایٹمی دھماکے کرکے دھاک بٹھا دی۔

انہوں نے کہاکہ 1998 ہو یا آج، پاکستانی قوم نے تمام تر اختلافات بھول کر اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا، پاکستانی قوم دلیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں ہم تیار ہیں، آزمانا نہیں، ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف

مشاہد حسین سید نے مزید کہاکہ انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کی ہمت، صلاحیت اور اسٹریٹجی بہت شاندار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا پاک بھارت جنگ پاک بھارت کشیدگی پاک فوج چین دہشتگردی عالمی طاقتیں قوم کا اتحاد ماہر بین الاقوامی امور مشاہد حسین سید وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا پاک بھارت جنگ پاک بھارت کشیدگی پاک فوج چین دہشتگردی عالمی طاقتیں قوم کا اتحاد ماہر بین الاقوامی امور مشاہد حسین سید وی نیوز مشاہد حسین سید نے کہاکہ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے کہ پاکستان کے ساتھ

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن