بھارت سے واپس آنیوالے بچوں کا علاج پاکستان میں ممکن ہے، میڈیکل بورڈ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
فوٹوز بشکریہ سوشل میڈیا
بھارت سے علاج کے بغیر وطن واپس آنے والے دو بچوں سے متعلق قومی ادارہ برائے امراض قلب کے میڈیکل بورڈ کا کہنا ہے کہ کا بچوں کا علاج پاکستان میں ممکن ہے۔
اسپتال کے حکام کے مطابق قومی ادارہ برائے امراضِ قلب میں دونوں بچوں کا معائنہ کیا گیا، بچوں کی صحت سے متعلق بنائے گئے میڈیکل بورڈ کی مشاورت مکمل ہوگئی۔
متاثرہ بچوں کے والد شاہد علی کی نے میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا ہے کہ میڈیکل بورڈ میں یہ کہا گیا ہے کہ بچوں کا علاج پاکستان میں ممکن ہے، قومی ادارہ امراض قلب میں بھی سرجری کرانے کا ڈاکٹرز نے مشورہ دیا۔
بھارت سے علاج کے بغیر واپس آنے والی 2 بچیوں کے معاملے پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے نوٹس لے لیا۔
شاہد علی کے مطابق آج شام اسلام آباد جارہا ہوں وہاں پر بھی ڈاکٹروں سے مشورہ لیا جائے گا، پاکستانی حکومت تعاون کر رہی ہے۔
متاثرہ بچوں کے والد کا مزید کہنا ہے کہ ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ بچوں کی یہ سرجری طویل عمل ہے، اسلام آباد میں بھی ڈاکٹرز سے مشاورت کر کے سرجری کا فیصلہ کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: میڈیکل بورڈ بچوں کا
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔