بھارت کی پاکستانیوں کے ویزا کی منسوخی سنگین انسانی مسائل پیدا کر رہی ہے، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 مئی2025ء)دفترخارجہ نے کہاہے کہ بھارت کی پاکستانیوں کے ویزا کی منسوخی سنگین انسانی مسائل پیدا کر رہی ہے، بھارتی حکام اجازت دیں تو ہم اپنے شہریوں کو واپس لینے کیلئے تیار ہیں۔بھارت سے واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستانیوں کی واپسی سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیاکہ بھارت کی جانب سے پاکستانیوں کے ویزا کی منسوخی سنگین انسانی مسائل پیدا کر رہی ہے۔
(جاری ہے)
انہوں نے کہاکہ متعدد مریض نازک صحت کے ساتھ علاج مکمل کیے بغیر وطن واپس آچکے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ خاندانوں کے بچھڑنے اور بچوں کے والدین سے جدا ہونے کی اطلاعات مل رہی ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق کچھ پاکستانی شہری اٹاری سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں۔بیان میں کہا گیاکہ واہگہ اٹاری سرحد عبور کرنے کی آخری تاریخ30 اپریل تھی، بھارتی حکام اجازت دیں تو ہم اپنے شہریوں کو واپس لینے کیلئے تیار ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی شہریوں کیلئے واہگہ بارڈر آئندہ بھی کھلا رہے گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے دفتر خارجہ
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔