بھارت کی پاکستانیوں کے ویزا کی منسوخی سنگین انسانی مسائل پیدا کر رہی ہے، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 مئی2025ء)دفترخارجہ نے کہاہے کہ بھارت کی پاکستانیوں کے ویزا کی منسوخی سنگین انسانی مسائل پیدا کر رہی ہے، بھارتی حکام اجازت دیں تو ہم اپنے شہریوں کو واپس لینے کیلئے تیار ہیں۔بھارت سے واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستانیوں کی واپسی سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیاکہ بھارت کی جانب سے پاکستانیوں کے ویزا کی منسوخی سنگین انسانی مسائل پیدا کر رہی ہے۔
(جاری ہے)
انہوں نے کہاکہ متعدد مریض نازک صحت کے ساتھ علاج مکمل کیے بغیر وطن واپس آچکے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ خاندانوں کے بچھڑنے اور بچوں کے والدین سے جدا ہونے کی اطلاعات مل رہی ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق کچھ پاکستانی شہری اٹاری سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں۔بیان میں کہا گیاکہ واہگہ اٹاری سرحد عبور کرنے کی آخری تاریخ30 اپریل تھی، بھارتی حکام اجازت دیں تو ہم اپنے شہریوں کو واپس لینے کیلئے تیار ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی شہریوں کیلئے واہگہ بارڈر آئندہ بھی کھلا رہے گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے دفتر خارجہ
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔