گورنر سندھ کا بھارت سے علاج کے بغیر واپس آئے معذور لڑکے کے اخراجات اٹھانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 مئی2025ء)گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے پہلگام واقعے کے بعد علاج اور ماں کے بغیر پاکستان آنے والے 17 سالہ معذور نوجوان آیان کے علاج کے اخراجات ادا کرنے کا اعلان کردیا۔تفصیلات کے مطابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے بھارت کی جانب سے بیمار پاکستانی شہریوں، خصوصا بچوں، کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ انسانیت کے تقاضے ایسے اقدامات کی ہرگز اجازت نہیں دیتے کہ کسی معصوم اور معذور بچے کا علاج صرف اس لیے روک دیا جائے کہ وہ پاکستانی ہے۔گورنر سندھ نے بھارت سے ادھورا علاج چھوڑ کر وطن واپس آنے والے معذور بچے کے علاج کا مکمل خرچ خود ادا کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے کہاکہ اگر بھارت انسان دشمنی پر اتر آیا ہے، تو میں انسانیت کا فرض نبھاں گا اور اس معصوم کا علاج کرا کر دم لوں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی ایک غیور قوم ہیں، جو اپنے دکھ درد کے ساتھ دوسروں کا بھی غم بانٹنا جانتی ہے۔ "ہم نفرت کے جواب میں محبت اور انسانیت کا پیغام دیں گے، کیونکہ یہی ہماری اقدار ہیں۔".
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے گورنر سندھ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔