منزلز بل کو عوامی خواہشات کے مطابق بنائیں گے، رحمت خالق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
گلگت بلتستان کے صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ جو لوگ منرلز بل پر شور مچا رہے ہیں وہی لوگ معدنیات پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان کے وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن حاجی رحمت خالق نے کہا ہے کہ جو لوگ منرلز بل پر شور مچا رہے ہیں وہی لوگ معدنیات پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایک انٹرویو میں رحمت خالق کا کہنا تھا کہ مائننگ اینڈ منرلز ایکٹ کا مسودہ ابھی ہمیں موصول نہیں ہوا، مسودہ ملنے کے بعد اس کو تفصیل سے پڑھیں گے، مسودے کو عوام کی خواہشات کے مطابق بنائیں گے، ہم اپنے عوام سے وعدہ کرتے ہیں کہ کم از کم ہم عوام کے مفادات کا سودا نہیں کریں گے، وہ کام کریں گے جس سے عوام کو کوئی نہ کوئی فائدہ ہو۔ اس بات میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ معدنیات کا بل کہیں اور سے بن کر آیا ہے، بل کا ڈرافٹ جب ہمیں ملے گا تو ہم اس کو پڑھ کر اس میں کوئی غلطی ہے تو اس کو درست کریں گے اور بل کو عوام دوست بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات کے بل پر شور وہ لوگ کر رہے ہیں جو پہاڑوں اور معدنیات پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، ہم ان کو قبضہ کرنے نہیں دیں گے، ہم پہاڑوں اور معدنیات کا تحفظ ہر صورت میں کریں گے اور ان پہاڑوں اور معدنیات کا فائدہ عوام کو پہنچائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کریں گے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔