سوشل میڈیا پر بزرگ شخص کی متنازعہ ویڈیو پر شدید ردعمل، خواتین سے متعلق غیر اخلاقی گفتگو پر عوام سراپا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک معمر شخص، جو داڑھی اور پیشانی پر محراب کے نشان سے مذہبی شناخت رکھتے ہیں، پاک بھارت ممکنہ جنگ کے تناظر میں ایک بھارتی اداکارہ سے متعلق نامناسب اور غیر اخلاقی تبصرہ کرتے نظر آتے ہیں۔ ویڈیو میں ان کے ساتھ ایک کمسن لڑکا، مبینہ طور پر ان کا بیٹا، بھی موجود ہے۔
ویڈیو میں بزرگ شخص کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ “اگر پاک بھارت جنگ ہوئی تو پاکستان جیتے گا اور مادھوری میری ہوگی۔ اپنے بیٹے کو گواہ بنا رہا ہوں۔” اس بیان نے سوشل میڈیا صارفین کو شدید غم و غصے میں مبتلا کر دیا، اور متعدد افراد نے اسے نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ مذہبی تعلیمات کے خلاف قرار دیا۔
صارفین نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات سے نہ صرف قومی وقار کو ٹھیس پہنچتی ہے بلکہ اسلام کے اس پیغام کی بھی نفی ہوتی ہے جو ہر عورت کی عزت اور حرمت کا درس دیتا ہے۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا: “حرکتیں چیک کریں، آنکھیں ختم ہو گئیں لیکن گھٹیا پن نہ گیا۔” ایک اور صارف نے کہا: “مسلمان ہو کر آپ نے اتنی غیر مناسب بات کیسے کی؟ فوراً معافی مانگیں۔”
علماء کرام اور سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی سطحی اور غیر شائستہ گفتگو نہ صرف اخلاقی پستی کی عکاسی کرتی ہے بلکہ معاشرتی اقدار کو بھی مجروح کرتی ہے۔ ایسے بیانات قومی بیانیے اور سنجیدہ معاملات کو مذاق میں بدل کر غلط رجحانات کو فروغ دیتے ہیں۔
اسلام خواتین کی عزت و حرمت پر زور دیتا ہے اور ہر مذہب، قوم اور ملک کی عورتوں کے لیے احترام کا پیغام دیتا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی ویڈیوز کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ معاشرے میں مثبت اور مہذب گفتگو کو فروغ دیا جا سکے۔
View this post on InstagramA post shared by Tribune URDU (@tribuneurdu.
مزیدپڑھیں:پنجاب میں طوفانی بارشوں، ژالہ باری کی پیشگوئی، تمام ہسپتالوں کیلئے الرٹ جاری
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔