ہمیں نیوکلیئر فیول سائیکل حاصل کرنیکا پورا حق حاصل ہے، ایران
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
سرکاری میڈیا کے مطابق سید عباس عراقچی نے این پی ٹی کے کئی ارکان ہیں جو یورینیم کو افزودہ کرتے ہیں جبکہ جوہری ہتھیاروں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میں اصولی طور پر، میڈیا کے ذریعے مذاکرات کے اہم نکات کے بارے میں گفتگو کرنے سے گریز کرتا ہوں، لیکن میں جو کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جھوٹ کو دہرانے سے بنیادی حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق سید عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران کو این پی ٹی کے بانی دستخط کنندگان میں سے ایک کے طور پر، مکمل نیوکلیئر فیول سائیکل حاصل کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ این پی ٹی کے کئی ارکان ہیں جو یورینیم کو افزودہ کرتے ہیں جبکہ جوہری ہتھیاروں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کلب میں ایران کے علاوہ کئی ایشیائی، یورپی اور جنوبی امریکی ممالک بھی شامل ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اپنی بات زیادہ سے زیادہ دہرانے اور اشتعال انگیز بیان بازی سے مذاکرات میں کامیابی کے امکانات کو تباہ کرنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک قابل اعتماد اور پائیدار معاہدہ ممکن ہے، لیکن فیصلہ کن سیاسی ارادے اور منصفانہ رویے کی ضرورت باقی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرتے ہیں
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :