ایران نے یمن کیخلاف امریکی جارحیت کی مذمت کردی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ یہ خطے کے تمام ممالک کی مشترکہ ذمے داری ہے کہ وہ صیہونی رژیم اور امریکہ کی لاقانونیت کا مقابلہ کریں۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ شب و روز میں امریکہ نے یمن کے صوبوں "صعدہ"، "صنعاء" اور "الجوف" کو نشانہ بنایا۔ جس پر اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان "اسماعیل بقائی" نے شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے یہ حملے یمن کی سلامتی و خود مختاری کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے ان حملوں کو اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی پامالی قرار دیا۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ حملے انسانی و جنگی جرم ہیں کیونکہ ان میں رہائشی علاقوں اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے امریکہ کے ہاتھوں بے گناہ انسانوں کے قتل عام پر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ ایران نے کہا کہ صیہونی رژیم کے مغربی کنارے کے خلاف اقدامات، غزہ میں نسل کشی اور لبنان پر حملوں سے مغربی ایشیاء میں بدامنی پھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطے کے تمام ممالک کی مشترکہ ذمے داری ہے کہ وہ صیہونی رژیم اور امریکہ کی لاقانونیت کا مقابلہ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔