Daily Ausaf:
2026-07-24@08:25:40 GMT

17 سال سے زمین میں چھپے پراسرار کیڑے واپس باہر آنے لگے

اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT

امریکہ کے مضافات اور جنگلات میں سرخ آنکھوں والے، شور مچانے والے پراسرار کیڑے سترہ سال بعد دوبارہ زمین سے باہر آنے کو تیار ہیں۔

آخری بار یہ کیڑے 2008 کی ابتدائی گرمیوں میں بڑی تعداد میں زمین سے نکلے تھے، جب دنیا مالی بحران کی زد میں تھی، آئی فون ایک عیاشی سمجھا جاتا تھا، اور جارج ڈبلیو بش امریکی صدر تھے۔

اس سال بھی موسم بہار کے آغاز کے ساتھ ہی شہری سائنسی ایپ سکیڈا سفاری Cicada Safari کے مطابق ”بروڈ 14“ (Brood XIV) نامی جھنڈ کے ابتدائی کیڑے امریکہ کے جنوبی علاقوں میں نمودار ہو چکے ہیں۔ جیسے جیسے شمالی علاقوں میں زمین کی سطح کا درجہ حرارت بڑھے گا، لاکھوں مزید کیڑے سطح پر آ جائیں گے۔

یہ کیڑے ہیمیپٹیرا نامی حشراتی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں، جس میں بدبودار کیڑے، بیڈ بگز اور افیڈز شامل ہیں۔ انہیں اکثر غلطی سے ٹڈی دل سمجھا جاتا ہے۔

ایک غلط فہمی جو ابتدائی انگریز نوآبادیاتی دور سے چلی آ رہی ہے جب ان کے اچانک اور بڑے پیمانے پر ظاہر ہونے کو مذہبی آفات سے تشبیہ دی گئی تھی۔

دنیا بھر میں تقریباً 3,500 اقسام کی سکیڈا موجود ہیں، جن میں سے کئی کو اب تک نام بھی نہیں دیا گیا۔

تاہم، امریکہ کے مشرقی حصے میں پائے جانے والے 13 یا 17 سال بعد جمع ہو کر نکلنے والے دَورانیہ دار سکیڈا (Periodical Cicadas) دنیا میں اپنی نوعیت کے منفرد کیڑے ہیں۔

یونیورسٹی آف کنیکٹیکٹ کی ماہرِ حشرات کرس سائمن کے مطابق ان کے سوا صرف بھارت کے شمال مشرقی علاقے اور فجی میں دو اقسام پائی جاتی ہیں۔

کرس سائمن کہتی ہیں، “یہ ایک حیرت انگیز مظہر ہے، جو آپ اپنے بچوں کو دکھا سکتے ہیں، ان کی تبدیلی کے عمل کو دیکھ سکتے ہیں، اور سوچ سکتے ہیں کہ ان کا ارتقاء کیسے ہوا۔

سکیڈا بالغ زندگی میں نہ کاٹتے ہیں، نہ ڈنگ مارتے ہیں، اور نہ ہی ٹھوس غذا کھاتے ہیں۔ وہ صرف پانی پیتے ہیں۔ نر کیڑے خاص جھلیوں (tymbals) کے ذریعے تیز آوازیں پیدا کرتے ہیں، جنہیں ایمبولینس کے سائرن یا برقی اوزاروں کی آواز سے تشبیہ دی جاتی ہے۔

یہ کیڑے زمین میں سترہ سال گزارنے کے بعد چند ہفتوں کے لیے نکلتے ہیں تاکہ اپنی کھال بدلیں، افزائش کریں، اور پھر مر جائیں۔ ان کے انڈے درختوں سے گر کر دوبارہ مٹی میں دفن ہو جاتے ہیں، جہاں سے یہ چکر دوبارہ شروع ہوتا ہے۔

ان کے دفاع کا طریقہ ان کی بے تحاشہ تعداد ہے اتنی بڑی تعداد میں نکلتے ہیں کہ شکاری (پرندے، لومڑیاں، کچھوے وغیرہ) انہیں کھا کر تھک جاتے ہیں، اور باقی کیڑے محفوظ رہتے ہیں۔ اس طرح وہ ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

تاہم، انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے ان کا قدرتی نظام متاثر ہو رہا ہے۔ جنگلات کی کٹائی اور شہری ترقی نے ان کے قدرتی مسکن تباہ کر دیے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں کچھ کیڑے وقت سے پہلے یا بعد میں ظاہر ہو رہے ہیں، جن کی تعداد اتنی کم ہوتی ہے کہ وہ بچ نہیں پاتے۔

واشنگٹن جیسے علاقوں میں یہ غیر متوقع نموداریاں مختلف گروہوں کے ”پیوند زدہ منظرنامے“ کی شکل اختیار کر رہی ہیں، جو مستقبل میں ان کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی