Daily Ausaf:
2026-06-03@01:40:37 GMT

17 سال سے زمین میں چھپے پراسرار کیڑے واپس باہر آنے لگے

اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT

امریکہ کے مضافات اور جنگلات میں سرخ آنکھوں والے، شور مچانے والے پراسرار کیڑے سترہ سال بعد دوبارہ زمین سے باہر آنے کو تیار ہیں۔

آخری بار یہ کیڑے 2008 کی ابتدائی گرمیوں میں بڑی تعداد میں زمین سے نکلے تھے، جب دنیا مالی بحران کی زد میں تھی، آئی فون ایک عیاشی سمجھا جاتا تھا، اور جارج ڈبلیو بش امریکی صدر تھے۔

اس سال بھی موسم بہار کے آغاز کے ساتھ ہی شہری سائنسی ایپ سکیڈا سفاری Cicada Safari کے مطابق ”بروڈ 14“ (Brood XIV) نامی جھنڈ کے ابتدائی کیڑے امریکہ کے جنوبی علاقوں میں نمودار ہو چکے ہیں۔ جیسے جیسے شمالی علاقوں میں زمین کی سطح کا درجہ حرارت بڑھے گا، لاکھوں مزید کیڑے سطح پر آ جائیں گے۔

یہ کیڑے ہیمیپٹیرا نامی حشراتی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں، جس میں بدبودار کیڑے، بیڈ بگز اور افیڈز شامل ہیں۔ انہیں اکثر غلطی سے ٹڈی دل سمجھا جاتا ہے۔

ایک غلط فہمی جو ابتدائی انگریز نوآبادیاتی دور سے چلی آ رہی ہے جب ان کے اچانک اور بڑے پیمانے پر ظاہر ہونے کو مذہبی آفات سے تشبیہ دی گئی تھی۔

دنیا بھر میں تقریباً 3,500 اقسام کی سکیڈا موجود ہیں، جن میں سے کئی کو اب تک نام بھی نہیں دیا گیا۔

تاہم، امریکہ کے مشرقی حصے میں پائے جانے والے 13 یا 17 سال بعد جمع ہو کر نکلنے والے دَورانیہ دار سکیڈا (Periodical Cicadas) دنیا میں اپنی نوعیت کے منفرد کیڑے ہیں۔

یونیورسٹی آف کنیکٹیکٹ کی ماہرِ حشرات کرس سائمن کے مطابق ان کے سوا صرف بھارت کے شمال مشرقی علاقے اور فجی میں دو اقسام پائی جاتی ہیں۔

کرس سائمن کہتی ہیں، “یہ ایک حیرت انگیز مظہر ہے، جو آپ اپنے بچوں کو دکھا سکتے ہیں، ان کی تبدیلی کے عمل کو دیکھ سکتے ہیں، اور سوچ سکتے ہیں کہ ان کا ارتقاء کیسے ہوا۔

سکیڈا بالغ زندگی میں نہ کاٹتے ہیں، نہ ڈنگ مارتے ہیں، اور نہ ہی ٹھوس غذا کھاتے ہیں۔ وہ صرف پانی پیتے ہیں۔ نر کیڑے خاص جھلیوں (tymbals) کے ذریعے تیز آوازیں پیدا کرتے ہیں، جنہیں ایمبولینس کے سائرن یا برقی اوزاروں کی آواز سے تشبیہ دی جاتی ہے۔

یہ کیڑے زمین میں سترہ سال گزارنے کے بعد چند ہفتوں کے لیے نکلتے ہیں تاکہ اپنی کھال بدلیں، افزائش کریں، اور پھر مر جائیں۔ ان کے انڈے درختوں سے گر کر دوبارہ مٹی میں دفن ہو جاتے ہیں، جہاں سے یہ چکر دوبارہ شروع ہوتا ہے۔

ان کے دفاع کا طریقہ ان کی بے تحاشہ تعداد ہے اتنی بڑی تعداد میں نکلتے ہیں کہ شکاری (پرندے، لومڑیاں، کچھوے وغیرہ) انہیں کھا کر تھک جاتے ہیں، اور باقی کیڑے محفوظ رہتے ہیں۔ اس طرح وہ ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

تاہم، انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے ان کا قدرتی نظام متاثر ہو رہا ہے۔ جنگلات کی کٹائی اور شہری ترقی نے ان کے قدرتی مسکن تباہ کر دیے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں کچھ کیڑے وقت سے پہلے یا بعد میں ظاہر ہو رہے ہیں، جن کی تعداد اتنی کم ہوتی ہے کہ وہ بچ نہیں پاتے۔

واشنگٹن جیسے علاقوں میں یہ غیر متوقع نموداریاں مختلف گروہوں کے ”پیوند زدہ منظرنامے“ کی شکل اختیار کر رہی ہیں، جو مستقبل میں ان کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد