چین کا بلیک آؤٹ بم‘ بجلی گھر ناکارہ بنانے کی صلاحیت سے لیس
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین نے جدید ہتھیار متعارف کرا دیا جو دشمن ملک کے بجلی گھروں کو بغیر کسی دھماکے کے مکمل طور پر ناکارہ بنا سکتا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا سی سی ٹی وی نے ایک اینیمیٹڈ وڈیو جاری کی جس میں نئے گرافائٹ بم کی صلاحیتیں دکھائی گئیں۔ اس ہتھیار کو بلیک آؤٹ بم بھی کہا جا رہا ہے، جو پاور اسٹیشنوں اور ہائی وولٹیج بجلی کے نظام کو نشانہ بناتا ہے۔ وڈیو کے مطابق یہ میزائل زمین سے داغا جاتا ہے اور ہوا میں جا کر 90 چھوٹے سب میونیشنز خارج کرتا ہے، جو زمین سے ٹکرا کر اوپر کی طرف اچھلتے ہیں اور فضا میں انتہائی باریک کاربن فائبرز پھیلاتے ہیں۔ یہ فائبرز بجلی کے تاروں میں شارٹ سرکٹ پیدا کرکے پورے نظام کو معطل کر سکتے ہیں۔ سی سی ٹی وی نے اس ہتھیار کو دشمن کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو مفلوج کرنے کا مؤثر ذریعہ قرار دیا ہے، جو تقریباً 10 ہزار مربع میٹر کے علاقے کو متاثر کر سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یڈیو میں اس ہتھیار کا اصل نام اور تکنیکی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں، بلکہ صرف مقامی ساختہ میزائل کہا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس طرح کے گرافائٹ بم ماضی میں امریکا نے عراق اور سربیا میں بھی استعمال کیے تھے، جنہیں غیر مہلک لیکن اسٹریٹیجک اثر رکھنے والے ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔